اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ صدارتی بیان منظور کر لیا ہے، جس میں جنگوں کے دوران بھی سفارتی رابطے جاری رکھنے اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے کوششیں تیز کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
’’فعال جنگی کارروائیوں کے دوران سفارت کاری کا کردار‘‘ کے عنوان سے پیش کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد بھی مذاکرات اور ثالثی کا عمل ختم نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسے حالات میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
بیان میں ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جنگ میں شامل فریقین کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ رابطے برقرار رکھیں تاکہ کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی اور تنازعات کو پھیلنے سے روکنے کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
اس میں شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور علاقائی تنازعات کو عالمی تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششوں کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ جنگ بندی کے بعد بھی مستقل سیاسی حل کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سید حیدر شاہ نے بیان کی منظوری کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ شروع ہونے کا مطلب سفارت کاری کا خاتمہ نہیں، بلکہ ایسے وقت میں اس کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہوتی ہے۔
یہ اقدام جولائی 2025ء میں پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران منظور ہونے والی قرارداد 2788 کے تسلسل میں سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے اس پیش رفت کو کثیرالجہتی تعاون، مذاکرات اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنے عزم کا حصہ قرار دیا ہے۔