کیا کبھی آپ نے سوچا کہ پاکستان میں جمہوریت کا ستیاناس کس نے کیا اور یہ کیوں ہوا؟ مارشل لا اور نظریہ ضرورت بھی اس کی وجوہات ہوں گی لیکن اس ستیاناس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں جمہوری جماعتیں ہی موجود نہیں ہیں۔ کہنے کو تو الیکشن کمیشن میں 175 کے قریب سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں لیکن بھان متی کے اس کنبے میں کتنی ہیں جنہیں سچ میں جمہوری سیاسی جماعت کہا جا سکے؟
یہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں یہ خاندانی جاگیریں ہیں، پرائیویٹ لمیٹڈ۔ ان کا جمہوریت اور جمہوری اقدار سےکچھ لینا دینا نہیں ۔
جمہوریت صرف اس چیز کا نام نہیں ہے کہ دادا اور دادے کے بعد بیٹا اور بیٹے سے ہوتے ہوئے پوتا سیاسی جماعتوں کی قیادت پر فائز ہو جائیں اور اس کے بعد وہ اپنےبیٹوں ، چاچوں، ماموں، چمچوں، دامادوں، بہوؤں، سمدھیوں ، سالیوں کو لے کر ایوانوں میں پہنچ جائیں۔ جمہوریت اصل میں ایک طرز فکر ہے۔ اور سیاسی جماعتیں اصل میں ایک ادارہ ہوتی ہیں۔ پاکستان میں کوئی ایک سیاسی جماعت بتائیے جو چاچے ماموں چمچوں کڑچوں کے کلچر سے آزاد ہو اور جس کے بارے میں آپ کہہ سکیں کہ یہ حقیقی جمہوریت ہے، یہ ایک ادارہ ہے، یہاں سب کے لیے راستے کھلے ہیں۔
بہت ساروں کے منہ کا ذائقہ خراب ہو جائے گا لیکن نستعلیق جمہوری اصولوں پر سیاسی جماعت ایک ہی ہے اور اس کا نام جماعت اسلامی ہے۔ اس میں نہ موروثیت ہے، نہ کسی ایک فرقے کی جماعت ہے، نہ کسی ایک مذہبی مکتب فکر کی جماعت ہے، نہ کسی ایک قومیت کی جماعت ہے، نہ یہ کلٹ ہے، نہ یہ کسی ایک خاص صوبے کی جماعت ہے، نہ یہ لسانی نفرت اور ردعمل کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ حقیقی معنوں میں اگر کوئی جماعت جمہوری کہلائی جا سکتی ہے تو وہ جماعت اسلامی ہے۔
الیکشن ہوتے ہیں تو وہ صرف جماعت اسلامی میں ہوتے ہیں۔ باقیوں میں صرف واردات اور کارروائی ڈالی جاتی ہے۔ اور الیکشن کمیشن کے قوانین کے تقاضے پورے کیے جاتے ہیں۔ اس جھوٹ اور شعبدہ بازی کا سب کو پتہ ہے لیکن سب مطمئن ہو جاتے ہیں کہ الیکشن ہو گئے ہیں۔
جن جن کے معدوں میں آزادانہ اور شفاف انتخابات کی تبخیر اٹھتی ہے ان سے صرف ایک سوال پوچھا جانا چاہیے کہ آپ کے جماعتی انتخابات پاکستان کے عام انتخابات سے کتنے کلو گرام زیادہ شفاف ہوتے ہین ۔ اگر وہاں واردات گوارا ہے تو یہاں چیخیں کیوں نکلتی ہیں ؟ جمہوریت مکمل پیکج ہے ، یہ نہیں ہو سکتا کہ جماعت میں تو و اردات کے ذریعے دادا ، پھر بیٹا پھر پوتا اور آگے نسلوں کا غلبہ برقرار رکھا جائے اور پھر منافقانہ تماشا لگایا جائے کہ عام انتخابات شفاف نہیں ہوتے۔ جو جمہوری روایات آپ بوےےئیں گے وہیں کاٹیں گے۔
اب جو واحد جمہوری جماعت ہے، اس کا حال ہے ہمارے سامنے ہے۔ ملک میں شاید ہی کوئی ایسا حلقہ ہو جس کے بارے میں ہم کہہ سکیں کہ جماعت اسلامی جیت سکتی ہے۔ ایک دیر تھا لیکن وہاں سے بھی کوئی اور نہیں، خود سراج الحق صاحب شکست کھا گئے۔
جمہوریت لانی ہے تو پہل سیاسی جماعتوں سے کیجیے ۔ کس سیاسی جماعت میں جمہوریت ہے؟ کہاں قائد محترم سے اختلاف کی گنجائش ہے؟ کیا مشاورت کی جاتی ہے؟ کیا یہاں کارکنان کے نام پر انجمن مجاوران باہمی کو نہیں ترجیح دی جاتی؟ کیا ہر جماعت میں شخصی اور خاندانی آمریت مسلط نہیں ہے؟ کیا وہ آمریت کسی اختلاف رائے کو برداشت کرتی ہے؟ کیا کارکنان میں غوروفکر کی بجائے صرف اندھی اطاعت کو فروغ نہیں دیا جاتا کہ قائد محترم نے جو فرما دیا وہی حق ہے باقی سب بکواس ہے؟
سیاسی جماعتوں میں جمہوریت متعارف کرائے بغیر ملک میں جمہوریت کی بات کرنا کیا منافقت کی بدترین شکل نہیں ہے؟
۔