پاکستانی ایم ایم اے فائٹر ملیحہ علی نے جارجیا کے شہر تبلیسی میں ہونے والی آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ چیمپئن شپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کانسی کا تمغہ جیت لیا۔ انہوں نے یہ کامیابی شدید جسمانی چوٹوں کے باوجود حاصل کی۔
ملیحہ علی کے پاؤں کی انگلی میں فریکچر تھا، آنکھ کے گرد شدید چوٹ آئی تھی اور ان کا جبڑا بھی جزوی طور پر اپنی جگہ سے ہٹ گیا تھا، لیکن انہوں نے مقابلے سے دستبردار ہونے کے بجائے کھیل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
پاکستانی فائٹر نے فیدر ویٹ کی 65.8 کلوگرام کیٹیگری میں پہلے روس کی دو مرتبہ یورپی چیمپئن ویرونیکا ڈروزدووا کو اسپلٹ فیصلے سے شکست دی، جبکہ کوارٹر فائنل میں میکسیکو کی آندریا گیبریلا گزمین سالازار کو متفقہ فیصلے سے ہرا کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی۔
سیمی فائنل میں ان کا مقابلہ روس کی پولینا بالڈینا سے ہوا۔ سخت مقابلے کے بعد تین ججز نے مختلف اسکور کارڈز کے ساتھ اسپلٹ فیصلہ دیا اور روسی فائٹر کو فاتح قرار دے دیا۔ اس طرح ملیحہ علی نے چیمپئن شپ میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔
دوسری جانب پاکستان ایم ایم اے فیڈریشن نے سیمی فائنل کے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے باضابطہ اپیل دائر کر دی ہے۔ فیڈریشن نے ججز سے ہر راؤنڈ کی اسکورنگ کی تفصیلات، مختلف فیصلوں کی وجوہات اور مقابلے کا تکنیکی جائزہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اپیل پر فیصلہ تاحال زیرِ التوا ہے۔