ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کی تو تہران کا ردعمل پہلے سے کہیں زیادہ وسیع اور شدید ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی پالیسی جاری رکھے گا اور امریکی دباؤ کے سامنے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے بدھ، 4 نومبر کو عالمی استکبار کے خلاف جدوجہد کے قومی دن کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ ایران کے خلاف امریکی دشمنی واشنگٹن میں حکومت یا سیاسی جماعت کی تبدیلی سے ختم نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کو رعایتیں دینے سے اس کی ایران مخالف پالیسی تبدیل ہو جائے گی، وہ بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر کیے گئے حملے واشنگٹن کی فوجی کارروائیوں کے جواب میں تھے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات امریکی دباؤ کے خلاف ایران کے ردعمل کا حصہ تھے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ حملے کیے تو اس ردعمل کا دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے اتحادی مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے فل-سطین، لبنان، عراق اور یمن میں سرگرم ان گروہوں کو مزاحمتی محاذ کا حصہ قرار دیتے ہوئے ان کی کارروائیوں کی تعریف کی۔ ان کے بقول خطے میں حالیہ پیش رفت نے امریکی فوجی طاقت کی حدود کو ظاہر کر دیا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنی عالمی بالادستی کے خاتمے کو ابھی بہت دور سمجھتا ہے، جبکہ ایران کے نزدیک یہ وقت قریب آ رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کے دفاع کو مضبوط بنانا، قومی اتحاد برقرار رکھنا اور مختلف شعبوں میں ترقی کرنا ملک کی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ ان کے مطابق مؤثر دفاعی صلاحیت حاصل کرنے کا راستہ ایک زیادہ مضبوط ایران کی حکمتِ عملی پر مسلسل عمل کرنا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور قطر اور پاکستان کی ثالثی میں سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز، اقتصادی پابندیوں اور مستقبل میں فوجی حملے نہ ہونے کی ضمانتوں سے متعلق اختلافات برقرار ہیں۔ ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ کسی بھی مستقل معاہدے کے لیے ان بنیادی معاملات پر اتفاق ضروری ہوگا۔