ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف نے بخارا کے ضلع قراؤل بازار میں واقع آئل ریفائنری کا دورہ کیا، جہاں انہیں 32 کروڑ 80 لاکھ ڈالر مالیت کے جدید کاری اور توسیعی منصوبے پر بریفنگ دی گئی۔ منصوبے کے تحت ریفائنری کی سالانہ خام تیل صاف کرنے کی صلاحیت بڑھا کر 50 لاکھ ٹن کرنے اور اعلیٰ معیار کے پیٹرول کی پیداوار میں اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
صدر شوکت مرزیایوف نے 3 نومبر کو بخارا آئل ریفائنری کا دورہ کیا اور وہاں جاری پیداواری سرگرمیوں اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا۔ یہ ریفائنری ازبکستان میں پیٹرولیم مصنوعات تیار کرنے والے بڑے صنعتی اداروں میں شمار ہوتی ہے، جہاں 3 ہزار 200 سے زائد ماہرین اور کارکن خدمات انجام دے رہے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے ابتدائی نو ماہ کے دوران ریفائنری نے 13 لاکھ 60 ہزار ٹن پیٹرولیم مصنوعات تیار کیں، جن کی مجموعی مالیت 12.1 ٹریلین ازبک سوم رہی۔ اسی عرصے میں مصنوعات اور خدمات کی برآمدات سے 9 کروڑ 95 لاکھ ڈالر حاصل ہوئے، جبکہ سال کے اختتام تک برآمدات کا حجم 11 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔
صدر مرزیایوف کو پیش کیے گئے جدید کاری کے منصوبے کا بنیادی مقصد خام تیل صاف کرنے کی صلاحیت بڑھانا اور زیادہ اوکٹین والے پیٹرول کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔ منصوبے کے تحت نیفتھا کی ہائیڈرو ٹریٹنگ اور آئسومرائزیشن کے جدید آلات نصب کیے جائیں گے۔ ان ٹیکنالوجیز کی مدد سے خام مال میں سلفر اور دیگر غیر ضروری اجزا کی مقدار کم کی جا سکے گی، جبکہ تیار ہونے والے پیٹرول کے معیار اور اوکٹین کی سطح میں بہتری آئے گی۔
نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے یورو-5 ماحولیاتی معیار کے مطابق AI-92 اور AI-95 پیٹرول کی پیداوار بڑھائی جائے گی۔ منصوبے میں خام مال کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنے اور بھاری پیٹرولیم باقیات کو مزید مؤثر انداز میں صاف کرنے کے نظام کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔ حکام کے مطابق ان اقدامات سے ریفائنری کی سالانہ پراسیسنگ صلاحیت میں مزید 25 لاکھ ٹن اضافہ ہوگا اور مجموعی گنجائش 50 لاکھ ٹن تک پہنچ جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ریفائنری کی پیداواری صلاحیت میں اضافے سے ازبکستان کی مقامی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی بہتر بنانے اور برآمدات بڑھانے میں مدد ملے گی۔ جدید آلات کی تنصیب اور پیداواری عمل میں بہتری سے اعلیٰ معیار کے ایندھن کی تیاری کے مواقع بھی وسیع ہوں گے۔
دورے کے دوران صدر شوکت مرزیایوف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جدید کاری کا منصوبہ مقررہ مدت میں اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے۔ انہوں نے نئی مشینری کو موجودہ پیداواری نظام سے مؤثر انداز میں منسلک کرنے اور توسیعی کام کے دوران ریفائنری کے معمول کے آپریشنز برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔ اس موقع پر صدر نے منصوبے میں شریک غیر ملکی کمپنیوں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی اور ترقیاتی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔