ریاض پر حالیہ حملوں اور سفری رکاوٹوں کے باعث ایشین کپ 2027 ملتوی کر دیا گیا

ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن (اے ایف سی) نے سعودی عرب میں آئندہ سال کے آغاز میں ہونے والا ایشین کپ 2027 خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ حملوں کے باعث ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ نئے شیڈول کے مطابق ٹورنامنٹ اب 23 دسمبر 2027 سے 21 جنوری 2028 تک منعقد ہوگا، تاہم نئی تاریخوں کی فیفا سے منظوری ابھی باقی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اے ایف سی نے منگل، 3 نومبر کو تصدیق کی کہ 24 ٹیموں پر مشتمل ٹورنامنٹ پہلے 7 جنوری سے 5 فروری 2027 تک سعودی عرب میں منعقد ہونا تھا۔ تاہم خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال، فضائی سفر میں رکاوٹوں اور انتظامی مشکلات کے باعث اسے تقریباً 11 ماہ کے لیے مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اے ایف سی کے مطابق یہ فیصلہ سعودی عرب کی فٹ بال فیڈریشن اور ٹورنامنٹ کی مقامی انتظامی کمیٹی کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد کیا گیا۔ کنفیڈریشن کا کہنا ہے کہ غیر معمولی علاقائی حالات کے باعث مقررہ وقت پر مقابلوں کا انعقاد مشکل ہو گیا تھا، اس لیے شریک ٹیموں، کھلاڑیوں، حکام اور شائقین کی سلامتی اور سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی تاریخیں تجویز کی گئی ہیں۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب کو گزشتہ کئی ہفتوں سے میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا ہے۔ اکتوبر میں دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ یمن کے ایران کے حمایت یافتہ حو-ثی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اسے ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے دوران سعودی عرب میں ہونے والے مہلک ترین حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایشین کپ کی مقامی انتظامی کمیٹی کے سربراہ یاسر المسحل نے کہا ہے کہ سعودی عرب پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق ٹورنامنٹ کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار تھا۔ ان کے مطابق نئی تاریخوں کے باوجود تیاریاں اسی رفتار سے جاری رہیں گی اور سعودی حکام ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر مقابلوں کے کامیاب انعقاد کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے۔

ایشین کپ 2027 کے مقابلے سعودی عرب کے شہروں ریاض، جدہ اور الخبر میں منعقد کیے جانے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہوگا جب سعودی عرب اس ٹورنامنٹ کی میزبانی کرے گا، اگرچہ سعودی قومی ٹیم ماضی میں تین مرتبہ ایشین کپ جیت چکی ہے۔ سعودی عرب اس ایونٹ کو 2034 کے فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی سے قبل ایک اہم تجربے کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں