اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ مؤثر ترقیاتی پالیسیاں ترک کرنے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ ان کے مطابق پائیدار قومی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کو سیاسی اور انتخابی ادوار سے بالاتر رکھا جائے، تاکہ حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود معاشی اور ترقیاتی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رہے۔
احسن اقبال نے پیر کو اسلام آباد کی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام 29ویں پائیدار ترقی کانفرنس اور چوتھی سسٹین ایبلٹی انویسٹمنٹ ایکسپو سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سمیت نئی ٹیکنالوجیز، موسمیاتی تبدیلی، عالمی سیاسی کشیدگی اور معاشی چیلنجز دنیا کی معیشتوں اور معاشروں کو تیزی سے تبدیل کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ممالک کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی تیاری ناگزیر ہو چکی ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے مقابلے میں قوموں کے پاس دو راستے ہیں۔ وہ یا تو ان تبدیلیوں سے خوفزدہ ہو کر ان کے منفی اثرات برداشت کریں یا پیشگی حکمت عملی تیار کرکے نئے چیلنجز کو ترقی کے مواقع میں تبدیل کریں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں نوجوانوں کو جدید عالمی معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، بگ ڈیٹا اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے شعبوں میں قومی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔
احسن اقبال نے عالمی سیاست اور معاشی استحکام کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلق کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ روس اور یوکرین کی جنگ سمیت مختلف بین الاقوامی تنازعات عالمی معیشت پر دور رس اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ان تنازعات سے توانائی کی منڈیوں، غذائی تحفظ، بین الاقوامی تجارت اور عالمی سپلائی چینز کو مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث ترقی پذیر ممالک کے لیے معاشی استحکام برقرار رکھنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔
بعد ازاں چین کی کمیونسٹ پارٹی کی تنظیم سازی سے متعلق ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے پاکستان اور چین کے درمیان سیاسی اور ادارہ جاتی تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں چینی کمیونسٹ پارٹی کے عوامی خدمت، تنظیمی نظم و ضبط، خود اصلاحی اور طویل مدتی قومی منصوبہ بندی کے تجربات سے سبق حاصل کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر طرز حکمرانی اور عوامی ضروریات کو ترجیح دینے والی پالیسیاں پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہیں۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے کے دوران تقریباً 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، جس کے نتیجے میں 8 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی کی پیداواری صلاحیت، 888 کلومیٹر شاہراہیں اور موٹرویز تعمیر ہوئیں، جبکہ تقریباً 2 لاکھ 36 ہزار براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔ انہوں نے ان اعدادوشمار کو پاکستان اور چین کے درمیان طویل مدتی تعاون کی اہم مثال قرار دیا۔