افریقی ملک مالی کے صحرائے صحارا سے 2022 میں ملنے والا ایک سرخی مائل پتھر مریخ کا تقریباً 4 ارب 10 کروڑ سال پرانا ٹکڑا نکلا ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کے تعاون سے کی گئی نئی تحقیق کے مطابق یہ زمین پر دریافت ہونے والے مریخ کے قدیم ترین پتھروں میں شامل ہے۔ سائنس دانوں کو اس میں ایسے شواہد بھی ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اربوں سال پہلے مریخ پر پانی موجود تھا۔
اس پتھر کو تیغازہ 001 (Teghaza 001) کا نام دیا گیا ہے، جو 2022 میں مالی کے گاؤں بیر چالی سے تقریباً 34 کلومیٹر دور صحرا میں دریافت ہوا تھا۔ پتھر کے آٹھ ٹکڑے ملے تھے، جن میں سب سے بڑا تقریباً ایک مٹھی کے برابر تھا۔ اس کا مجموعی وزن تقریباً 800 گرام بتایا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ ایک عام پتھر دکھائی دیتا تھا، لیکن بعد میں اس کی سائنسی جانچ سے اس کی غیر معمولی اہمیت سامنے آئی۔
ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنس دانوں نے پتھر میں موجود مختلف معدنیات کا تجزیہ کیا۔ اس میں زرکون نامی معدنی ذرات بھی پائے گئے، جن میں موجود یورینیم اور اس سے بننے والے سیسے کی مقدار کا جائزہ لے کر پتھر کی عمر کا اندازہ لگایا گیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ پتھر کم از کم 4 ارب 10 کروڑ سال پہلے مریخ کی بیرونی چٹانی تہہ کا حصہ بنا تھا۔
اس دریافت کا سب سے اہم پہلو مریخ پر قدیم زمانے میں پانی کی موجودگی کے نئے شواہد ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق پتھر کی کیمیائی ساخت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی تشکیل کے دوران پانی نے چٹانوں کے ساتھ تعامل کیا تھا۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ پانی مریخ کی سطح سے زمین کے اندرونی حصوں کی طرح گہرائی میں موجود چٹانوں تک پہنچ رہا تھا۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور ناسا کی سائنس دان یانگ لیو کے مطابق یہ پتھر مریخ کے اس قدیم دور کی نشانی ہے جب وہاں کا ماحول آج کے مقابلے میں زیادہ گرم اور نم ہو سکتا تھا۔ موجودہ مریخ ایک سرد اور خشک سیارہ ہے، تاہم ماضی کی تحقیقات میں وہاں دریاؤں، جھیلوں اور پانی کے بڑے ذخائر کی موجودگی کے شواہد مل چکے ہیں۔ نئی دریافت ان شواہد کو مزید مضبوط کرتی ہے۔
محققین کے مطابق پانی کی موجودگی اس امکان کو تقویت دیتی ہے کہ ابتدائی مریخ پر زندگی کے لیے سازگار حالات موجود رہے ہوں گے۔ تاہم سائنس دانوں نے واضح کیا ہے کہ اس پتھر سے مریخ پر کبھی زندگی موجود ہونے کا براہِ راست ثبوت نہیں ملا۔ اس دریافت سے صرف یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ اربوں سال پہلے مریخ کا ماحول کیسا تھا اور وقت کے ساتھ اس میں کیا تبدیلیاں آئیں۔
سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ پتھر ممکنہ طور پر مریخ کے جنوبی پہاڑی علاقے سے تعلق رکھتا تھا۔ کسی بڑے خلائی جسم کے مریخ سے ٹکرانے کے نتیجے میں چٹان کا یہ حصہ سیارے سے الگ ہو کر خلا میں پہنچ گیا ہوگا۔ طویل عرصے تک خلا میں سفر کرنے کے بعد یہ زمین کی فضا میں داخل ہوا اور بالآخر صحرائے صحارا میں آ گرا۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ پتھر زمین پر کب گرا تھا۔
تحقیق کے نتائج 29 اکتوبر 2026 کو معروف سائنسی جریدے سائنس (Science) میں شائع ہوئے۔ ماہرین کو امید ہے کہ اس پتھر پر مزید تحقیق سے مریخ کی ابتدائی تاریخ، وہاں پانی کے وجود اور زمین سے اس کے ماحول کے مختلف ہونے کی وجوہات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔