سوئٹزرلینڈ کے سائنس دانوں نے ایک ایسا جدید الیکٹرانک آلہ تیار کیا ہے جو جسم میں موجود اضافی شوگر کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ چھوٹا آلہ جسم کے اندر نصب کیا جاتا ہے اور اسے موبائل فون کی مدد سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ محققین کے مطابق ابتدائی تجربات میں اس آلے نے ذیابیطس کے شکار چوہوں کی بلڈ شوگر قابو میں رکھنے اور وزن کم کرنے میں مدد دی ہے۔
سوئٹزرلینڈ کی معروف تحقیقی درسگاہ ای ٹی ایچ زیورخ (ETH Zurich) نے 22 اکتوبر کو جاری رپورٹ میں بتایا کہ یہ آلہ خاص طور پر ٹائپ ٹو ذیابیطس کے علاج کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد روایتی ادویات کے بجائے ایک الیکٹرانک نظام کے ذریعے خون میں شوگر کی اضافی مقدار کم کرنا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج معروف سائنسی جریدے سائنس (Science) میں شائع ہوئے ہیں۔
نئے آلے میں ایک خاص قسم کا مادہ استعمال کیا گیا ہے، جو بجلی کی معمولی مقدار کی مدد سے خون میں موجود اضافی گلوکوز، یعنی شوگر، کو گلوکونیٹ نامی مادے میں تبدیل کرتا ہے۔ یہ مادہ بعد میں پیشاب کے ذریعے جسم سے خارج ہو جاتا ہے۔ اس طرح جسم میں اضافی شوگر کی مقدار کم کرنے کے ساتھ چربی جمع ہونے کے عمل کو بھی محدود کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس نظام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اسے موبائل فون یا اسمارٹ واچ کے ذریعے خودکار انداز میں چلایا جا سکتا ہے۔ جسم پر لگا شوگر سینسر مسلسل گلوکوز کی سطح معلوم کرتا ہے۔ جب کھانے کے بعد شوگر بڑھتی ہے تو سینسر موبائل فون کو اطلاع دیتا ہے، جس کے بعد آلہ فعال ہو جاتا ہے۔ شوگر مطلوبہ سطح تک آنے پر آلہ خود بخود بند ہو جاتا ہے، تاکہ خون میں شوگر خطرناک حد تک کم نہ ہو۔
تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے پہلے اس نظام کو پانچ لیٹر شوگر والے محلول میں آزمایا، جو تقریباً ایک بالغ انسان کے جسم میں موجود خون کی مقدار کے برابر ہے۔ اس کے بعد ذیابیطس کے شکار چوہوں پر تجربات کیے گئے۔ نتائج کے مطابق آلہ شوگر کی سطح کو قابو میں رکھنے میں کامیاب رہا اور چھ ہفتوں کے دوران تجرباتی جانوروں کے وزن میں بھی کمی دیکھی گئی۔
تحقیق کی سربراہی کرنے والے پروفیسر مارٹن فوسنیگر کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی خاص بات یہ ہے کہ یہ شوگر کو قابو کرنے کے لیے براہِ راست الیکٹرانک نظام استعمال کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تجربات کے دوران آلے نے کم وولٹیج پر کام کیا اور چھ ہفتوں کے مشاہدے میں بجلی یا حرارت کے باعث جسمانی بافتوں کو نقصان پہنچنے کے شواہد نہیں ملے۔
تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ اس آلے کو ابھی انسانوں پر نہیں آزمایا گیا اور یہ عام مریضوں کے استعمال کے لیے دستیاب نہیں ہے۔ انسانی جسم میں اس کی حفاظت، طویل مدتی کارکردگی اور مؤثریت جانچنے کے لیے مزید تجربات ضروری ہیں۔
سائنس دانوں کو امید ہے کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی ذیابیطس اور موٹاپے کے علاج کے نئے طریقے فراہم کر سکتی ہے۔ اگر انسانی تجربات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ آلہ بلڈ شوگر کو قابو میں رکھنے کے لیے موجودہ علاج کے ساتھ ایک نئی سہولت بن سکتا ہے۔