پاکستان میں ازبکستان کے 14 خطوں کی تاریخ و ثقافت پر 181 صفحات کی تصویری کتاب شائع

پاکستان میں ازبکستان کے تمام 14 خطوں کی تاریخ، ثقافت، تاریخی مقامات اور سیاحتی امکانات کو اجاگر کرنے کے لیے 181 صفحات پر مشتمل ایک تصویری کتاب شائع کی گئی ہے۔ پاکستان میں ازبکستان کے سفیر علی شیر تختائیف نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ یہ کتاب ازبک سفارت خانے کی خصوصی کاوش سے تیار کی گئی ہے، جس کا مقصد پاکستانی عوام کو ازبکستان کے تاریخی اور ثقافتی ورثے سے متعارف کرانا اور دونوں ممالک کے درمیان سیاحتی روابط کو فروغ دینا ہے۔

کتاب کا عنوان “Uzbekistan in Photos: A Journey Through the 14 Regions” رکھا گیا ہے، جس کے مجموعی طور پر 600 نسخے شائع کیے گئے ہیں۔ اس تصویری کتاب میں ازبکستان کے مختلف علاقوں کی رنگین تصاویر، تاریخی عمارتوں، ثقافتی روایات، قدرتی مناظر اور اہم سیاحتی مقامات کو شامل کیا گیا ہے۔

کتاب میں سمرقند، بخارا، خیوا، شہرسبز اور تاشقند جیسے تاریخی شہروں کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ ان شہروں کے قدیم مقامات، اسلامی فنِ تعمیر اور تاریخی شاہراہِ ریشم سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تصاویر کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ازبکستان کے پہاڑی علاقوں، جھیلوں، صحراؤں، قدیم قلعوں، روایتی کھانوں اور مقامی دستکاریوں کو بھی کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔

ازبکستان کی علمی اور مذہبی تاریخ کو بھی کتاب میں نمایاں جگہ دی گئی ہے۔ اس میں امام بخاریؒ، امام ترمذیؒ، ابنِ سینا، ابو ریحان البیرونی، مرزا الغ بیگ اور علی شیر نوائی جیسی اہم شخصیات کے علمی و ثقافتی کردار کو اجاگر کیا گیا ہے۔ تاشقند میں مرکزِ تہذیبِ اسلامی اور سمرقند میں امام بخاریؒ کمپلیکس کی تعمیرِ نو جیسے منصوبوں کا تعارف بھی شامل ہے۔

ازبک سفیر کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد غیر ملکی سیاحوں نے ازبکستان کا دورہ کیا، جبکہ 2026 کے ابتدائی نو ماہ کے دوران 20 ہزار سے زیادہ پاکستانی سیاح ازبکستان گئے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس وقت ہر ہفتے نو براہِ راست پروازیں چل رہی ہیں، جو پاکستان اور ازبکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاحتی روابط کی عکاسی کرتی ہیں۔

اس تصویری کتاب کو پاکستان میں سیاحتی نمائشوں، بین الاقوامی فورمز، کاروباری ملاقاتوں اور خصوصی تقریبات میں متعارف کرایا جائے گا۔ اس کے نسخے سرکاری اداروں، سیاحتی کمپنیوں، ذرائع ابلاغ، کاروباری حلقوں اور عوامی نمائندوں میں بھی تقسیم کیے جائیں گے تاکہ ازبکستان کے مختلف علاقوں کے بارے میں معلومات زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں تک پہنچ سکیں۔

کتاب کی اشاعت کا مقصد ازبکستان کے بارے میں پاکستانی عوام کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو عملی سیاحتی دوروں اور نئی شراکت داریوں میں تبدیل کرنا ہے۔ اس اقدام سے پاکستانی قارئین کو ازبکستان کے تاریخی شہروں، ثقافت اور قدرتی حسن کے بارے میں جاننے کا موقع ملے گا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعلقات، سیاحت اور عوامی روابط کو مزید فروغ دینے میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں