افغانستان سے ہونے والے د-ہشت گرد حملوں میں گزشتہ تین سال کے دوران 4700 سے زائد پاکستانی جاں بحق ہوئے، اقوام متحدہ میں پاکستان کا دعویٰ

پاکستان نے اقوام متحدہ میں افغان طا-لبان پر د-ہشت گرد تنظیموں کو افغانستان کی سرزمین سے سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ پاکستانی نمائندے کے مطابق گزشتہ تین سال کے دوران افغانستان سے ہونے والے د-ہشت گرد حملوں میں 4 ہزار 700 سے زائد پاکستانی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہر نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں پر بڑھتی پابندیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔

افغانستان کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نمائندے محمد جواد اجمل نے کہا کہ افغان طا-لبان اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان میں د-ہشت گرد تنظیمیں بلا روک ٹوک سرگرم ہیں اور بیرونی عناصر کی مدد سے پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

محمد جواد اجمل کا کہنا تھا کہ افغان طا-لبان کے د-ہشت گرد تنظیموں کے ساتھ قریبی روابط ہیں اور ان تنظیموں کی کھل کر مذمت نہ کرنا ان کی حمایت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے افغانستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کو بنیادی آزادیوں اور انسانی وقار سے محروم کرنا اسلامی تعلیمات اور روایات کے بھی منافی ہے۔

پاکستانی نمائندے نے جولائی میں اسلام آباد میں ہونے والی خواتین سے متعلق نویں وزارتی کانفرنس کا حوالہ دیا، جس میں اسلامی تعاون تنظیم نے اسلام آباد اعلامیہ منظور کیا تھا۔ اعلامیے میں افغان طا-لبان کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیوں کو اسلامی اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے انسانی حقوق رچرڈ بینیٹ نے جنرل اسمبلی میں اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے پانچ سال بعد بھی طا-لبان نے انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیاں ختم کرنے کے لیے آمادگی ظاہر نہیں کی۔ ان کے مطابق خواتین اور لڑکیوں پر پابندیاں مسلسل سخت کی جا رہی ہیں، جبکہ نئے احکامات نے ان کے بنیادی حقوق مزید محدود کر دیے ہیں۔

رچرڈ بینیٹ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ جب تک افغان طا-لبان انسانی حقوق کی صورتحال میں قابلِ تصدیق بہتری نہیں لاتے اور امتیازی پابندیاں ختم نہیں کرتے، ان کے ساتھ تعلقات معمول پر نہ لائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی پابندیوں کے باعث خواتین کے لیے گھریلو تشدد سے بچنا مزید مشکل ہو گیا ہے، جبکہ کم عمری کی شادیوں کی بھی اجازت دی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہر کی رپورٹ میں افغانستان میں من مانی گرفتاریاں، تشدد، جنسی تشدد، جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت اموات جیسے سنگین مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی بھی محدود ہے، جبکہ معذور افراد اور نسلی، مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو امتیازی سلوک اور دیگر مشکلات کا سامنا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں