یمن کی حکومت نے حو-ثی ج-نگجوؤں پر ایران کی مدد سے اس-لحہ اور جدید فوجی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مسلسل ح-ملوں کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ شہری تنصیبات پر ح-ملے روکنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے عالمی برادری کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
اقوام متحدہ میں یمن کے مستقل مندوب سفیر عبداللہ السعدی نے سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے خط میں کہا کہ 28 اکتوبر کو حو-ثی ج-نگجوؤں نے عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بیلسٹک می-زائلوں سے نشانہ بنایا۔ یمنی حکومت کے مطابق رواں ماہ ہوائی اڈے پر یہ چھٹا ح-ملہ تھا، جس سے مسافروں اور عملے کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں اور کئی پروازوں کا رخ دوسرے ہوائی اڈوں کی جانب موڑنا پڑا۔
یمنی حکومت نے شہری ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کو ج-نگی ج-رم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے ح-ملے مسافروں، طیاروں کے عملے اور ہوائی اڈے کے کارکنوں کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔ حکومت نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ح-ملوں کی مذمت کے ساتھ ذمہ داروں کے احتساب اور شہری ہوائی اڈوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے۔
یمنی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ حو-ثی ج-نگجو سمگلنگ کے نیٹ ورکس اور ایران کی مدد سے جدید اس-لحہ اور فوجی ٹیکنالوجی حاصل کر رہے ہیں۔ حکومت کے مطابق اس مدد سے حو-ثیوں کی بیلسٹک می-زائلوں، ڈرونز اور بارودی مواد سے بھری کشتیوں کے ذریعے ح-ملے کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ای-ران ماضی میں حو-ثیوں کو اس-لحہ فراہم کرنے کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔
یمنی حکومت نے خبردار کیا کہ حو-ثیوں کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیتوں سے نہ صرف یمن بلکہ بحیرہ احمر، آبنائے باب المندب اور خلیج عدن میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ حکومت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر قانونی اس-لحے کی ترسیل روکنے اور متعلقہ پابندیوں پر عملدرآمد کے لیے تعاون بڑھائے۔