پاکستان جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں قائم ہوا، جہاں مقصد عوامی نمائندگی، قانون کی حکمرانی، انصاف اور مساوی مواقع کی فراہمی تھا۔ مگر قیامِ پاکستان سے آج تک سیاسی تاریخ محاذ آرائی، عدم برداشت اور اقتدار کی کشمکش سے عبارت رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ سیاست میں بڑھتی تلخی اور نفرت کا فائدہ کس کو پہنچتا ہے؟ جب رہنما مخالفین کو دشمن اور کارکن اختلاف کو ذاتی لڑائی بنا لیں تو عوامی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف متاثر ہوتے ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں فائدہ ان عناصر کو پہنچ سکتا ہے جو سیاسی تقسیم سے اپنا اثرورسوخ بڑھاتے ہیں، جبکہ نقصان جمہوریت اور عوام کا ہوتا ہے۔
قائداعظم محمد علی جناح کی وفات اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد پاکستان سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوتا گیا۔ جمہوری ادارے مضبوط نہ ہو سکے اور 1958 میں پہلا مارشل لا نافذ ہوگیا، جس سے جمہوری ارتقا متاثر ہوا۔ 1960 کی دہائی میں سیاسی نمائندگی اور مشرقی و مغربی پاکستان کے اختلافات بڑھتے گئے۔1970 کے انتخابات میں عوامی لیگ کی اکثریت کے باوجود اقتدار کی منتقلی کا مسئلہ حل نہ ہوسکا۔ سیاسی عدم اعتماد، مذاکرات کی ناکامی اور طاقت کے استعمال نے 1971 میں ملک کی تقسیم کی راہ ہموار کی۔ یہ تاریخ بتاتی ہے کہ آئینی راستے سے انحراف کی قیمت پوری قوم ادا کرتی ہے۔
1973کا آئین پاکستان کے وفاقی اور پارلیمانی نظام کی بنیاد بنا، تاہم سیاسی محاذ آرائی اور انتخابی تنازعات نے جمہوری استحکام کو متاثر کیا۔1977 میں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا نے جمہوری عمل روک دیا۔ سیاسی پابندیوں اور غیر جماعتی انتخابات نے سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے۔1988 میں جمہوریت بحال ہوئی، مگر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتوں کی بار بار برطرفی اور باہمی کشمکش نے پارلیمانی نظام کو کمزور رکھا۔ نتیجتاً مستقل قومی پالیسیاں متاثر ہوئیں اور غیر مستحکم سیاسی ماحول سے ان قوتوں کے اثرورسوخ میں اضافے کے امکانات پیدا ہوئے جو کمزور جمہوری نظام سے فائدہ اٹھا سکتی تھیں۔
1999میں جنرل پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے سے فوجی حکمرانی کا ایک اور دور شروع ہوا۔2008 میں جمہوریت بحال ہوئی اور 2010 کی اٹھارہویں آئینی ترمیم نے پارلیمانی نظام اور صوبائی خودمختاری کو تقویت دی۔2013 میں پہلی مرتبہ ایک منتخب حکومت نے اپنی آئینی مدت مکمل کرکے اقتدار دوسری منتخب حکومت کو منتقل کیا۔ تاہم 2018 اور 2022 کے سیاسی واقعات، تحریکِ عدم اعتماد اور مسلسل محاذ آرائی نے جمہوری استحکام کو متاثر کیا۔ 2024 کے انتخابات کے بعد بھی سیاسی نمائندگی اور انتخابی اعتماد پر سوالات اٹھے۔ پائیدار جمہوریت کے لیے شفاف انتخابات، آئینی تسلسل، پارلیمانی جواب دہی اور اختلافِ رائے کا احترام ناگزیر ہیں۔
آج سیاست میں تلخی کی وجوہات کیا ہیں؟ اس کا جواب کسی ایک شخصیت یا جماعت میں تلاش کرنا مسئلے کو محدود کر دینے کے مترادف ہوگا۔ سیاسی مفادات، اقتدار کی کشمکش، کمزور جمہوری روایات، اداروں کے درمیان اختیارات سے متعلق تنازعات، انتخابی نظام پر عدم اعتماد، سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ اطلاعات اور مخالفین کو غدار، دشمن یا ملک دشمن قرار دینے کا رجحان اس ماحول کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ جب سیاسی جماعتیں اپنی کارکردگی کے بجائے مخالفین کی کردار کشی کو کامیابی کا پیمانہ بنا لیں تو سیاسی مکالمہ کمزور اور الزام تراشی مضبوط ہونے لگتی ہے۔ کارکن بھی دلیل کے بجائے جذبات کے زیرِ اثر آ جاتے ہیں۔ اختلاف کو جمہوریت کی خوب صورتی سمجھنے کے بجائے دشمنی بنا دیا جاتا ہے، حالانکہ جمہوری نظام میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی اپنی اہمیت ہے۔ حکومت کا کام ریاستی امور چلانا ہے اور اپوزیشن کا فرض حکومتی فیصلوں پر تنقید، نگرانی اور متبادل تجاویز پیش کرنا ہے۔ اگر دونوں اپنے آئینی کردار سے تجاوز کریں یا ایک دوسرے کے وجود کو ہی تسلیم نہ کریں تو جمہوریت محض انتخابی مقابلہ بن کر رہ جاتی ہے۔
اب اصل سوال کی طرف آتے ہیں: اس تلخی کا بینیفشری کون ہے؟ مسلسل محاذ آرائی کسی ایک فریق کے بجائے مختلف عناصر کے مفادات کو تقویت فراہم کرتی ہے۔ سیاسی رہنما مخالفین کے خلاف سخت زبان استعمال کرکے اپنے حامیوں کو متحرک رکھتے ہیں، جبکہ بعض عناصر عوامی مسائل سے توجہ ہٹا کر تنازعات کو ہوا دیتے ہیں۔ غیر جمہوری قوتیں سیاسی عدم استحکام کو جمہوریت کی ناکامی کے جواز کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مواد پھیلانے والے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تاہم اصل نقصان عوام، جمہوری اداروں اور قومی یکجہتی کا ہوتا ہے، جبکہ تقسیم سے فائدہ اٹھانے والے اپنا اثرورسوخ بڑھا تے رہتے ہیں۔ اس تلخی کی سب سے بڑی قیمت عام پاکستانی ادا کرتا ہے۔ پالیسیوں کے تسلسل میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے، سرمایہ کار غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا کرتے ہیں، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی کوششیں سیاسی کشمکش کی نذر ہو سکتی ہیں۔
اس صورتِ حال سے نکلنے کا راستہ سیاسی انتقام نہیں بلکہ جمہوری بلوغت ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اختلافِ رائے کے لیے واضح حدود اور مشترکہ اصول طے کرنے چاہییں۔ پاکستان کی تاریخ نے بار بار ثابت کیا ہے کہ سیاسی بحرانوں سے نکلنے کے لیے کسی ایک فریق کی مکمل فتح اور دوسرے کی مکمل شکست ضروری نہیں، بلکہ ایسے اصول درکار ہیں جو سب کے لیے یکساں ہوں۔ آخر میں سوال پھر وہی ہے کہ سیاست میں اتنی تلخی کا فائدہ کس کو؟ اس کا جواب کسی ایک نام میں نہیں بلکہ اس پورے طرزِ سیاست میں پوشیدہ ہے جس میں عوامی مسائل سے زیادہ سیاسی دشمنی کو اہمیت دی جاتی ہے۔ جب سیاسی قیادتیں مکالمے کے بجائے تصادم، کارکردگی کے بجائے الزام تراشی اور قومی مفاد کے بجائے محدود سیاسی مفادات کو ترجیح دیتی ہیں تو نقصان پورے پاکستان کا ہوتا ہے۔ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں، بلکہ برداشت، جواب دہی، قانون کی حکمرانی اور اختلاف کے احترام کا نام بھی ہے۔ پاکستان کو آج ایسی سیاست کی ضرورت ہے جس میں مقابلہ ضرور ہو، مگر دشمنی نہ ہو؛ تنقید ضرور ہو، مگر کردار کشی نہ ہو؛ اختلاف ضرور ہو، مگر آئین اور ریاست کے بنیادی مفادات پر مکالمے کے دروازے بند نہ ہوں۔ کیونکہ اصل کامیابی کسی ایک جماعت کی فتح نہیں، بلکہ ایک ایسا پاکستان ہے جہاں اقتدار بدلنے سے ریاستی نظام مفلوج نہ ہو، اختلاف سے قومی اتحاد کمزور نہ پڑے اور عوام کو ہر سیاسی بحران کے بعد یہ سوال نہ کرنا پڑے کہ آخر اس لڑائی