ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان جمعہ 23 اکتوبر کو استنبول میں پاکستان، سعودی عرب، مصر، برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے وزرائے خارجہ کی میزبانی کریں گے۔ ان ملاقاتوں کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، علاقائی سلامتی اور اہم بین الاقوامی مسائل پر سفارتی تعاون بڑھانا ہے۔ ترکیہ کی میزبانی میں پہلی مرتبہ ساتوں ممالک کے وزرائے خارجہ ایک مشترکہ اجلاس میں شریک ہوں گے، جسے علاقائی اور یورپی ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ترکیہ کے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق اجلاس میں دو سفارتی گروپوں کے نمائندے شریک ہوں گے۔ پہلے گروپ کو آر فور (R4) کہا جاتا ہے، جس میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر شامل ہیں، جبکہ دوسرے گروپ ای تھری (E3) میں برطانیہ، جرمنی اور فرانس شامل ہیں۔ ان ممالک کے وزرائے خارجہ پہلے الگ الگ مشاورت کریں گے، جس کے بعد آر فور اور ای تھری کے مشترکہ اجلاس کا انعقاد بھی متوقع ہے۔ ترکیہ کی وزارتِ خارجہ کے ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا جب دونوں گروپ ایک ہی سفارتی فارمیٹ کے تحت علاقائی معاملات پر بات چیت کریں گے۔
اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کریں گے۔ دیگر شرکا میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی، جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فول، برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ اور فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو شامل ہوں گے۔ میزبان ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان ان ملاقاتوں کی سربراہی کریں گے۔ ترک حکام کے مطابق اس سفارتی سرگرمی کا مقصد علاقائی تنازعات پر مشترکہ مؤقف تلاش کرنا اور سلامتی سے متعلق تعاون کے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔
اجلاس کے اہم موضوعات میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، یمن میں جاری کشیدگی، بحیرہ احمر اور باب المندب میں بحری نقل و حمل کی سلامتی اور امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع شامل ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم سمندری راستہ ہے، جبکہ باب المندب کے راستے بحری تجارت اور جہاز رانی کی حفاظت بھی خطے کے ممالک کے لیے ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اجلاس میں روس اور یوکرین کی جنگ اور اس-رائیل و فل-سطین سے متعلق صورتحال پر بھی گفتگو متوقع ہے۔ ترکیہ سفارتی ذرائع سے کشیدگی کم کرنے اور اہم سمندری راستوں پر آزادانہ نقل و حرکت برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دے گا۔
اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں کردار ادا کر رہا ہے۔ دوسری جانب ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی تعاون بھی علاقائی سلامتی کے تناظر میں اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ترکیہ کی جانب سے آر فور اور ای تھری کے وزرائے خارجہ کو ایک میز پر لانے کی کوشش کو مشرقِ وسطیٰ کے مسائل پر علاقائی اور یورپی ممالک کے درمیان مشاورت بڑھانے کے اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم اجلاس ابھی منعقد ہونا باقی ہے اور کسی مشترکہ اعلامیے، معاہدے یا فیصلے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔