“امریکہ پاکستان کا دوست رہے گا ،بھارت چاہے تو ایران سے دوستی کر لے “
اس سے ملتے جلتے الفاظ بھارتی سرزمین پر کھڑے ہوکر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہے ہیں ۔
ہم تسلیم کریں یا نہ کریں لیکن ہے تو یہ حقیقت کہ پاکستان کی عالمی سفارتی حیثیت اب پہلے سے بہت بہتر اور نمایاں ہے ۔اس کی تازہ مثال گزشتہ دو تین دن کی عالمی خبریں ہیں ۔ پہلی خبر ہے کہ بھارت کے دورے پر آئے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھارتی سرزمین پر بیٹھ کر پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات کا دفاع کیا ہے ۔بھارتی ٹی وی چینل نیٹ ورک 18 کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، جس کی جغرافیائی اہمیت کو امریکہ نظرانداز نہیں کرسکتا۔ ایک قدم مزید آگے بڑھاتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا جس طرح بھارت اپنے قومی مفادات کے تحت ایران سے تعلقات رکھتا ہے، اسی طرح امریکہ بھی پاکستان سے تعلقات رکھ سکتا ہے۔
ظاہر ہے یہ کوئی معمولی سفارتی پیش رفت نہیں ہے ۔پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان کے حوالے سے امریکی رویے میں واضح تبدیلی آئی ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی تعریف کرچکے ہیں۔پاک بھارت کشیدگی اور امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے پاکستانی قیادت کے کردار کو امریکی صدر نے کئی بار سراہا ہے ۔
یہ صورتحال ماضی سے بہت مختلف ہے۔
صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ خطے میں بھی پاکستان کے دفاعی اور سفارتی روابط میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اگست 2026 میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے معاہدۂ مکہ برائے مشترکہ دفاع پر دستخط کیے، جس کے تحت ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔اب گزشتہ روز پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا نے دوحہ میں بدر معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد دفاعی صنعت، مشترکہ پیداوار، ٹیکنالوجی اور تربیت میں تعاون بڑھانا ہے۔
یہ دونوں معاہدے پاکستان کے بڑھتے ہوئے علاقائی روابط کی اہم مثالیں ہیں۔میرے نزدیک ان تمام اقدامات کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو اس موقف کو تقویت ملتی ہے کہ پاکستان کی سفارتی اور تزویراتی اہمیت پہلے سے زیادہ نمایاں ہورہی ہے۔اس مثبت پیش رفت کو محض سیاسی اختلاف کی بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔
آج امریکی وزیر خارجہ بھارت میں بیٹھ کر پاکستان کے ساتھ تعلقات کا دفاع کررہا ہے، جبکہ خطے کے اہم ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کو وسعت دے رہے ہیں۔یہ تبدیلی پاکستان کے لیے یقیناً اہم ہے، اور اسے سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔