جاپان مسلسل تیسری بار جمناسٹکس کا عالمی چیمپیئن بن گیا

جاپان نے عالمی جمناسٹکس چیمپیئن شپ کے مردوں کے ٹیم مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل تیسری مرتبہ عالمی چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ نیدرلینڈز کے شہر روٹرڈیم میں منگل 20 اکتوبر کو ہونے والے فائنل میں جاپانی ٹیم نے آخری مراحل میں برطانیہ اور چین کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 251.928 پوائنٹس کے ساتھ سونے کا تمغہ جیتا۔ اس کامیابی کے ساتھ جاپان نے عالمی جمناسٹکس میں اپنی برتری برقرار رکھی۔

مقابلے کے ابتدائی مراحل میں برطانیہ اور چین کی ٹیمیں مضبوط پوزیشن میں تھیں، جبکہ جاپان کو آخری دو مراحل میں اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت تھی۔ جاپانی کھلاڑیوں نے دباؤ کے باوجود بہترین مظاہرہ کیا اور فیصلہ کن مرحلے میں برتری حاصل کر لی۔ برطانوی ٹیم ابتدائی چار مراحل تک سبقت لیے ہوئے تھی، تاہم متوازی سلاخوں کے مقابلے میں کھلاڑی کورٹنی ٹلوچ کے گرنے سے اس کی پوزیشن متاثر ہوئی اور وہ تمغوں کی دوڑ میں پیچھے رہ گئی۔

جاپان کی کامیابی میں معروف جمناسٹ ڈائیکی ہاشیموتو نے اہم کردار ادا کیا۔ اولمپک چیمپیئن اور تین مرتبہ عالمی آل راؤنڈ چیمپیئن رہنے والے ہاشیموتو نے آخری مرحلے میں افقی سلاخ پر عمدہ کارکردگی دکھائی اور اپنی مشق کامیابی سے مکمل کرکے جاپان کی فتح یقینی بنا دی۔ جاپان نے اس سے قبل پیرس اولمپکس 2024 میں بھی مردوں کے ٹیم مقابلے میں سونے کا تمغہ جیتا تھا، جبکہ روٹرڈیم کی کامیابی نے اسے مسلسل تین عالمی ٹیم اعزازات حاصل کرنے والی ٹیم بنا دیا۔

عالمی چیمپیئن شپ میں روسی کھلاڑیوں نے بھی نمایاں کارکردگی دکھاتے ہوئے 250.329 پوائنٹس کے ساتھ چاندی کا تمغہ حاصل کیا، جبکہ چین نے 249.193 پوائنٹس کے ساتھ کانسی کا تمغہ جیتا۔ روسی ٹیم تقریباً چار سال بعد کسی بڑے بین الاقوامی ٹیم مقابلے میں واپس آئی تھی۔ یوکرین پر روسی حملے کے بعد بین الاقوامی کھیلوں میں پابندیوں کے باعث روسی کھلاڑی اس چیمپیئن شپ میں اپنے قومی پرچم اور ترانے کے بغیر ’’ورلڈ جمناسٹکس ٹو‘‘ کے نام سے غیر جانبدار ٹیم کے طور پر شریک ہوئے۔

مردوں کے ٹیم مقابلے میں پہلی تین پوزیشنیں حاصل کرنے والی جاپان، روسی کھلاڑیوں کی غیر جانبدار ٹیم اور چین نے 2028 میں امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں ہونے والے اولمپکس کے لیے بھی کوالیفائی کر لیا ہے۔ جاپان کی مسلسل تیسری عالمی کامیابی اس کی جمناسٹکس میں مضبوط پوزیشن کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ روسی کھلاڑیوں کی چاندی کے تمغے کے ساتھ بین الاقوامی مقابلوں میں واپسی بھی اس چیمپیئن شپ کی اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں