عالمی ادارۂ صحت اور حکومت کا پاکستان میں بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے پہلی قومی حکمتِ عملی متعارف کرا دی

پاکستان میں بچوں کے خلاف تشدد کی روک تھام اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ملک کی پہلی قومی حکمتِ عملی متعارف کرا دی ہے۔ سال 2026 سے 2031 تک کے لیے تیار کردہ اس حکمتِ عملی کا مقصد ملک کے تقریباً 12 کروڑ بچوں کو جسمانی، ذہنی، جنسی اور دیگر اقسام کے تشدد سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی 19 اکتوبر کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں تقریباً 80 فیصد بچوں کو تربیت یا نظم و ضبط کے نام پر جسمانی سزا یا نفسیاتی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، 10 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً 8 لاکھ 40 ہزار بچوں کی زندگی میں کسی نہ کسی وقت شادی ہو چکی ہے، جبکہ 86 لاکھ بچے محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کے علاوہ پانچ سال سے کم عمر کے 57 فیصد سے زیادہ بچوں کی پیدائش سرکاری طور پر رجسٹرڈ نہیں، جس سے ان کے تحفظ اور بنیادی سہولتوں تک رسائی میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔

رپورٹ میں بچوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے لاحق خطرات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے 12 سے 17 سال کی عمر کے ہر 16 میں سے ایک بچے کو آن لائن استحصال یا بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بے گھر، نقل مکانی کرنے والے اور غریب شہری آبادیوں میں رہنے والے بچوں کو تشدد، کم عمری کی شادی، انسانی اسمگلنگ اور جبری مشقت جیسے خطرات زیادہ لاحق ہوتے ہیں۔

بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کی قومی حکمتِ عملی کا باضابطہ اجرا 14 اکتوبر کو اسلام آباد میں کیا گیا۔ اس موقع پر وزارتِ انسانی حقوق، عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کے اشتراک سے دو روزہ مشاورتی اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں وفاقی و صوبائی حکام، ماہرین، سماجی تنظیموں، نوجوانوں اور بچوں سمیت 100 سے زائد افراد نے شرکت کی۔ اجلاس میں بچوں کے تحفظ کے لیے موجودہ اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور مستقبل کے اہداف پر تبادلہ خیال ہوا۔

نئی حکمتِ عملی کے تحت بچوں کے خلاف تشدد کی روک تھام، متاثرہ بچوں کی مدد، بحالی، قانونی تحفظ اور انصاف تک رسائی کو بہتر بنایا جائے گا۔ اس میں جسمانی سزا، جنسی استحصال، نفسیاتی تشدد، نظرانداز کیے جانے، کم عمری کی شادی اور آن لائن بدسلوکی جیسے مسائل سے نمٹنے کے اقدامات شامل ہیں۔ حکمتِ عملی عالمی ادارہ صحت کے تیار کردہ بین الاقوامی فریم ورک INSPIRE کے اصولوں پر مبنی ہے، جس میں مؤثر قوانین، محفوظ ماحول، والدین کی تربیت اور بچوں کے لیے معاون خدمات کو اہمیت دی گئی ہے۔

پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ڈاکٹر لوو داپینگ نے کہا کہ بچوں کے خلاف تشدد صرف فوری جسمانی نقصان تک محدود نہیں رہتا بلکہ ان کی ذہنی صحت، تعلیم، نشوونما اور مستقبل کے تعلقات کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

وزارتِ انسانی حقوق کے وفاقی سیکریٹری عبدالخالق شیخ نے کہا کہ قومی حکمتِ عملی کا اجرا ایک اہم قدم ہے، تاہم اس کی اصل کامیابی کا انحصار عملی اقدامات اور بچوں کو تشدد سے محفوظ بنانے کے نتائج پر ہوگا۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق، دنیا بھر میں ہر سال تقریباً ایک ارب بچے جسمانی، جنسی یا جذباتی تشدد کا سامنا کرتے ہیں، جبکہ ہر پانچ منٹ میں ایک بچہ تشدد کے نتیجے میں جان کی بازی ہار جاتا ہے۔ ادارے نے زور دیا ہے کہ مؤثر حکومتی پالیسیوں، مضبوط اداروں اور معاشرتی تعاون کے ذریعے بچوں کے خلاف تشدد اور اس کے طویل مدتی اثرات کو روکا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں