چینی ٹیکنالوجی سے سندھ کی زراعت میں انقلاب لانے کی تیاری، مقامی بیجوں پر توجہ

شدید گرمی، پانی کی قلت اور سیلاب جیسے چیلنجز سے دوچار سندھ کی زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے صوبائی حکومت نے چینی زرعی ٹیکنالوجی سے استفادے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے چینی کمپنی کو جدید بیجوں کی تیاری، زرعی تحقیق اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں تعاون بڑھانے کی دعوت دی ہے۔

چنگفا ہیشینگ ایگریکلچر ڈویلپمنٹ کمپنی کے حکام سے ملاقات میں مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں ایسی فصلوں کی اقسام تیار کرنے کی ضرورت ہے جو مقامی موسمی حالات کا مقابلہ کر سکیں اور کم پانی میں بہتر پیداوار دے سکیں۔ اس مقصد کے لیے مشترکہ تحقیق، جدید بیجوں کی جانچ اور مقامی زرعی ماہرین کی تربیت پر زور دیا گیا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے چینی کمپنی کو صوبے میں مشترکہ تحقیقی مراکز قائم کرنے اور ہاریوں کو جدید زرعی طریقوں سے روشناس کرانے میں تعاون کی پیشکش بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ معیاری بیجوں اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زرعی پیداوار بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

ملاقات کے دوران چینی کمپنی کے حکام نے بتایا کہ ادارے کو ہائبرڈ چاول اور ریپ سیڈ کی تیاری میں مہارت حاصل ہے۔ کمپنی کے مطابق، ہائبرڈ چاول کی اقسام استعمال کرنے سے پیداوار میں 20 سے 30 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ ادارے کی چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے ساتھ تحقیقی شراکت داری بھی موجود ہے۔

گفتگو میں مقامی سطح پر بیجوں کی افزائش اور پیداوار بڑھانے پر بھی توجہ دی گئی۔ سندھ حکومت کا مقصد مقامی بیجوں کی دستیابی بہتر بنا کر درآمد شدہ اقسام پر انحصار کم کرنا ہے، جبکہ پاکستانی زرعی اداروں کے ساتھ مشترکہ تحقیق کے امکانات بھی زیرِ بحث آئے۔

ایک اور اہم پہلو بیجوں کے معیار کی نگرانی ہے۔ چینی کمپنی کے حکام نے بتایا کہ پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے ساتھ مالیکیولر بیج شناختی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے معاہدے کیے گئے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی بیجوں کی شناخت، ان کے معیار کی جانچ اور سراغ رسانی کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے، جس سے جعلی بیجوں کی روک تھام میں بھی معاونت ملنے کی توقع ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے زرعی تحقیق کے ساتھ زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ اور برآمدات میں بھی تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔ ملاقات میں صوبائی وزراء، متعلقہ حکام اور زرعی شعبے سے وابستہ ماہرین بھی شریک تھے۔

اب اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ چینی ٹیکنالوجی کو سندھ کے مقامی موسمی حالات اور ہاریوں کی ضروریات کے مطابق کس حد تک اپنایا جاتا ہے، اور آیا اس تعاون سے بہتر بیج، زیادہ پیداوار اور کسانوں کی آمدنی میں حقیقی بہتری آتی ہے یا نہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں