ازبکستان کا جارجیا کی بندرگاہ پر لاجسٹکس مرکز قائم کرنے کا منصوبہ

ازبکستان اور جارجیا نے دوطرفہ تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر تک بڑھانے اور یورپی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جارجیا کی پوتی بندرگاہ پر ازبکستان کا لاجسٹکس مرکز قائم کرنے اور بحیرۂ کیسپین کے راستے تجارتی رابطے مضبوط بنانے پر بھی بات چیت ہوئی۔

جارجیا کے علاقے تسیناندالی میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے بین الحکومتی کمیشن کا گیارہواں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت ازبکستان کے وزیر سرمایہ کاری، صنعت و تجارت لازیـز قدرتوف اور جارجیا کی نائب وزیر اعظم و وزیر اقتصادیات اور پائیدار ترقی مریم کوریویشویلی نے کی۔

اجلاس میں فریقین نے آزاد تجارتی نظام سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور صنعت، تعمیرات، زراعت، توانائی اور مالیات کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کو آگے بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر دوطرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف بھی زیرِ بحث آیا۔

مذاکرات میں ٹرانس کیسپین ٹرانسپورٹ راہداری کی ترقی کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ یہ راستہ وسطی ایشیا کو بحیرۂ کیسپین اور قفقاز کے ذریعے یورپی منڈیوں سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسی سلسلے میں جارجیا کی پوتی بندرگاہ پر ازبکستان کے لاجسٹکس مرکز کے قیام پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

ازبکستان کی وزارتِ سرمایہ کاری، صنعت و تجارت کے مطابق، اس مرکز کے ذریعے یورپ کی جانب سامان کی پہلی آزمائشی ترسیلات بھی کی جا چکی ہیں۔ اس پیش رفت کو ازبکستان کی برآمدات کے لیے متبادل تجارتی راستے مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اجلاس میں صنعتی تعاون، فضائی رابطوں میں اضافے، سیاحت کے فروغ اور دونوں ممالک کے مختلف خطوں کے درمیان تعلقات مضبوط بنانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

بین الحکومتی کمیشن کا اگلا اجلاس موسمِ بہار 2027 میں تاشقند ریجن میں منعقد ہوگا، جہاں دوطرفہ اقتصادی تعاون میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں