ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف اور ترکمانستان کے قومی رہنما اور خلق مصلحت کے چیئرمین قربان قلی بردی محمدوف کے درمیان ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات، تجارتی تعاون اور وسطی ایشیا میں علاقائی استحکام کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
گفتگو کے دوران صدر شوکت مرزیایوف نے قربان قلی بردی محمدوف کو وسطی ایشیا اور آذربائیجان کے سربراہان کے مشاورتی اجلاس، دولتِ مشترکہ کے سربراہی اجلاس اور بحیرۂ کیسپین ماحولیاتی فورم کے کامیاب انعقاد پر مبارک باد دی۔ یہ تمام اہم اجتماعات ترکمانستان میں منعقد ہوئے۔
ازبک صدر نے علاقائی مکالمے اور کثیرالجہتی تعاون کو آگے بڑھانے میں ترکمانستان کے کردار کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ ان اجلاسوں میں طے پانے والے معاہدے خطے میں پائیدار ترقی، امن اور استحکام کے لیے تعاون کے نئے مواقع فراہم کریں گے۔
بات چیت میں ازبکستان اور ترکمانستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی تجارت بڑھانے، صنعتی تعاون کو وسعت دینے اور توانائی، ٹرانسپورٹ اور زراعت کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر عمل درآمد تیز کرنے کی اہمیت اجاگر کی۔
اس کے علاوہ، نقل و حمل اور رسد کے رابطوں کو مضبوط بنانے اور ثقافتی و انسانی تبادلوں میں اضافے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
رہنماؤں نے آئندہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے شیڈول پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو مزید وسعت دیں گے۔ مشترکہ تاریخ، ثقافتی روایات، دیرینہ دوستی اور اچھے ہمسائیگی کے تعلقات ازبکستان اور ترکمانستان کے باہمی تعاون کی بنیاد ہیں، جبکہ دونوں ممالک وسطی ایشیا میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے مل کر کام جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔