جرمنی کی خلائی کمان کے سربراہ میجر جنرل مائیکل ٹراؤٹ نے خبردار کیا ہے کہ خلا میں روسی فوجی سیٹلائٹس کی حالیہ سرگرمیاں ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے اسٹارلنک جیسے بڑے سیٹلائٹ نیٹ ورکس کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روس ایسی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہا ہے جنہیں مستقبل میں تجارتی مواصلاتی سیٹلائٹس کی کارکردگی متاثر کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ کسی براہِ راست حملے کے بغیر بھی ان کی خدمات میں خلل پیدا کیا جا سکتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکی اسپیس فورس نے بتایا کہ مئی 2026 میں روس کے چار فوجی سیٹلائٹس، جن کی شناخت کوسموس 2610 سے 2613 کے ناموں سے کی گئی، فن لینڈ کی کمپنی آئی سی ای وائی (ICEYE) کے ایک تجارتی سیٹلائٹ کے قریب پہنچے تھے۔ یہ کمپنی یوکرین، امریکا اور ان کے اتحادیوں کو ریڈار تصاویر اور معلومات فراہم کرتی ہے۔ میجر جنرل ٹراؤٹ نے روسی سیٹلائٹس کی اس سرگرمی کو فن لینڈ کے سیٹلائٹ کا تعاقب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں خلا میں موجود دیگر سیٹلائٹ نیٹ ورکس کے لیے بھی تشویش کا باعث ہیں۔
جرمن خلائی کمانڈر کے مطابق روس ایسے طریقے استعمال کر سکتا ہے جن سے اسٹارلنک جیسے ہزاروں سیٹلائٹس پر مشتمل نیٹ ورک کی مدتِ استعمال اور خدمات کا معیار متاثر ہو۔ انہوں نے ایک ممکنہ صورتِ حال کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی روسی سیٹلائٹ اسٹارلنک کے مداری راستے میں آ کر ٹکڑوں میں بکھر جائے تو دوسرے سیٹلائٹس کو تصادم سے بچنے کے لیے اپنے راستے تبدیل کرنا پڑ سکتے ہیں۔ اس عمل میں اضافی ایندھن استعمال ہوگا، جس سے ان کی عملی عمر کم ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ ایک فرضی صورتِ حال ہے، کسی بالفعل روسی حملے کی تصدیق نہیں۔
فن لینڈ کی کمپنی ICEYE کے چیف ایگزیکٹو رافال موڈزیوسکی نے رائٹرز کو بتایا کہ روسی سیٹلائٹس کے قریب آنے کے بعد ان کی کمپنی نے اپنے سیٹلائٹ کی پوزیشن تبدیل کی، جس کے بعد روسی سیٹلائٹس نے بھی مزید نقل و حرکت کی۔ ان کے مطابق یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ خلا میں موجود سیٹلائٹس کو نگرانی یا ممکنہ نقصان پہنچانے کے مقصد سے ایک دوسرے کے قریب لایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب امریکی خلائی معلومات کی کمپنی سلنگ شاٹ ایرو اسپیس کی چیف سائنٹسٹ بیلنڈا مارچینڈ نے کہا کہ اس سرگرمی کا مقصد نگرانی، مستقبل میں مداخلت کی تیاری یا اپنی تکنیکی صلاحیت کا مظاہرہ بھی ہو سکتا ہے۔ روس نے ان سیٹلائٹس کی مکمل صلاحیتوں کی تفصیلات عام نہیں کیں۔
رائٹرز کے مطابق روسی وزارتِ دفاع نے اس معاملے پر سوالات کا جواب نہیں دیا، جبکہ اسٹارلنک کی منتظم کمپنی اسپیس ایکس کی جانب سے بھی فوری تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ روس ماضی میں خبردار کر چکا ہے کہ یوکرین کی مدد کرنے والے مغربی تجارتی سیٹلائٹس ممکنہ جوابی کارروائی کا ہدف بن سکتے ہیں۔ اس صورتِ حال کے پیش نظر جرمنی خلا میں اپنی دفاعی صلاحیتیں بڑھانے، نگرانی کرنے والے سیٹلائٹس تیار کرنے اور ایسے نظاموں پر غور کر رہا ہے جو مخالف سیٹلائٹس کو تباہ کیے بغیر ان کی سرگرمیوں میں خلل ڈال سکیں۔ جرمنی کی مسلح افواج نے نیٹو کے مشرقی علاقوں کی نگرانی کے لیے ICEYE اور ایک جرمن کمپنی کو درجنوں سیٹلائٹس تیار کرنے کا معاہدہ بھی دیا ہے۔