پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے حو-ثیوں سے سعودی شہری علاقوں، ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حملے فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور مملکت کو اپنے شہریوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کے دفاع کا حق حاصل ہے۔
جمعہ 9 اکتوبر کو سلامتی کونسل میں یمن کی صورت حال پر ماہانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے وزیراعظم شہباز شریف کے بیان کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور اس کی اسٹریٹجک، سیاسی و دفاعی کمیٹی کے حالیہ فیصلوں کے مطابق سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔ انہوں نے ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے، ابہا ہوائی اڈے، مدینہ میں طیبہ بجلی تقسیم مرکز اور مکہ ریجن کی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی۔ سفیر نے حرمین شریفین کے تقدس اور تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
پاکستانی مندوب نے یمن کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے ساتھ ساتھ اس کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے یمن کے مغربی ساحل اور آبنائے باب المندب کے اطراف حو-ثیوں کی بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارتی بحری جہازوں پر حملے بند ہونے چاہییں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق سمندری راستوں سے محفوظ آمدورفت یقینی بنائی جانی چاہیے۔
عاصم افتخار احمد نے یمن میں جاری لڑائی کے انسانی اثرات پر بھی توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ تعز کے اطراف فوجی کارروائیوں اور عدن کے ہوائی اڈے پر حملے سمیت حالیہ واقعات سے شہریوں اور ضروری تنصیبات کو مزید خطرات لاحق ہوئے ہیں۔ پاکستانی سفیر نے متاثرہ آبادی تک خوراک، ایندھن، ادویات اور دیگر امدادی سامان کی فوری اور بلا رکاوٹ فراہمی، امدادی سرگرمیوں کے لیے مناسب مالی وسائل اور شہری تنصیبات کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے زیرِ حراست اقوام متحدہ، امدادی اداروں اور سفارتی عملے کے ارکان کی فوری، غیر مشروط اور محفوظ رہائی پر بھی زور دیا۔
پاکستانی سفیر نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن ہانس گرنڈبرگ کی سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے رابطے برقرار رکھنا اور جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ایسا جامع سیاسی عمل شروع کرنے کی حمایت کی جس کی قیادت خود یمنی فریق کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کو متحد ہو کر حملے رکوانے، علاقائی سلامتی کے تحفظ، انسانی مشکلات کم کرنے اور یمن میں دیرپا سیاسی حل کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان ایک پُرامن، مستحکم اور متحد یمن کے قیام کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔