انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر کاکروچ جنتا پارٹی کے مجوزہ احتجاج سے قبل پولیس نے ایک ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ انڈین اخبار ہندوستان ٹائمز نے پولیس حکام کے حوالے سے بتایا کہ یہ کارروائیاں جمعے کی رات اور ہفتے کی صبح شہر کے مختلف علاقوں میں کی گئیں۔ حراست میں لیے گئے افراد میں طلبہ، کارکن، مظاہرین اور احتجاج کی کوریج کرنے والے صحافی بھی شامل ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی اور دیگر نوجوان تنظیموں نے 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر احتجاج کا اعلان کیا تھا، جس کا بنیادی مطالبہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ ہے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے عمل میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں، جن سے حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ تاہم انڈین الیکشن کمیشن اور حکمران جماعت ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈِیپکے اور دو اہم رہنماؤں سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو ممبئی سے دہلی پہنچنے کے بعد ہوائی اڈے پر طیارے کے اندر ہی حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس نے احتجاج کی اجازت نہ دینے کی وجہ درخواست بروقت جمع نہ کرانا، عوامی تحفظ اور امن و امان کے خدشات بتائے ہیں۔ پولیس کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ممنوعہ علاقوں میں غیر مجاز اجتماعات اور ممکنہ بدامنی کو روکنا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس پولیس نے دارالحکومت کے متعدد علاقوں میں رکاوٹیں کھڑی کر کے آمدورفت محدود کر دی، جبکہ بعض میٹرو اسٹیشن اور اہم راستے بھی بند کیے گئے۔ جن پتھ اور کرتیویہ پتھ کے چوراہے کے گرد چار کلومیٹر کے علاقے میں موبائل انٹرنیٹ سروس کی معطلی کا حکم بھی جاری کیا گیا، جو 9 اکتوبر کی رات سے 10 اکتوبر کی رات تک نافذ رہنا تھا۔ پولیس نے مختلف مقامات پر اضافی نفری تعینات کی تاکہ مظاہرین جنتر منتر تک نہ پہنچ سکیں۔
انڈین ایکسپریس نے احتجاج کے تناظر میں صحافیوں اور دیگر افراد کی حراست کی بھی اطلاع دی ہے۔ بی بی سی ہندی کی رپورٹ کے مطابق نیوزلانڈری، سکرول ڈاٹ اِن اور نو بھارت ٹائمز سے وابستہ صحافیوں کو بھی پولیس نے روکا یا حراست میں لیا۔ متعلقہ اداروں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے نمائندے احتجاج کی کوریج کر رہے تھے۔ بعض صحافیوں کی رہائی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ پولیس نے صحافیوں کی حراست کے ہر انفرادی واقعے کی وجوہات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی نے اپنے کارکنوں کو احتجاج کے دوران پُرامن رہنے، سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچانے اور پولیس کی رکاوٹوں کو عبور نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ دوسری جانب انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔ مختلف ذرائع سے حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد میں فرق سامنے آیا ہے، تاہم ہندوستان ٹائمز اور انڈین ایکسپریس نے پولیس کے حوالے سے دہلی میں کم از کم ایک ہزار افراد کی حراست کی اطلاع دی ہے۔