ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف نے 9 اکتوبر کو برطانیہ کے وزیر مملکت برائے تجارت لارڈ انس سرور سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، اقتصادی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ برطانوی وزیر ازبکستان اور برطانیہ کی اقتصادی کمیٹی کے دوسرے اجلاس میں شرکت کے لیے تاشقند پہنچے تھے۔
ازبک صدر کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق ملاقات کے آغاز میں لارڈ انس سرور نے برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کی جانب سے نیک خواہشات اور خصوصی پیغام صدر شوکت مرزیایوف تک پہنچایا۔ دونوں جانب سے سیاسی روابط اور مختلف سطحوں پر وفود کے تبادلوں میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا، جبکہ سکیورٹی کے شعبے میں جاری تعاون کو بھی اہم قرار دیا گیا۔
ملاقات میں بتایا گیا کہ ازبکستان اور برطانیہ کے درمیان دوطرفہ تجارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس وقت ازبکستان میں 260 مشترکہ کاروباری ادارے کام کر رہے ہیں۔ لندن اسٹاک ایکسچینج میں ازبکستان کے قومی سرمایہ کاری فنڈ کی پہلی مرتبہ حصص کی عوامی پیشکش بھی مکمل کی جا چکی ہے۔ برطانوی بینک اسٹینڈرڈ چارٹرڈ مالیاتی شعبے اور برٹش پیٹرولیم تیل و گیس کے شعبے میں سرگرم ہیں۔
تعلیم اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام کے مطابق دونوں ممالک کے اشتراک سے تین اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کیے گئے ہیں، جبکہ کیمبرج یونیورسٹی کے تعاون سے صدارتی اسکول بھی شروع کیے گئے ہیں۔ ازبکستان آنے والے برطانوی سیاحوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ فریقین نے بنیادی ڈھانچے، توانائی، مالیات، ارضیات، ٹرانسپورٹ، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں نئے منصوبوں کو آگے بڑھانے پر زور دیا، جن میں برطانوی ادارے یو کے ایکسپورٹ فنانس کی شمولیت بھی زیرِ غور آئی۔
برطانوی وفد نے تاشقند میں ایک بین الاقوامی مالیاتی مرکز کے قیام میں تعاون کی آمادگی ظاہر کی، جو انگریزی قانون کے اصولوں کے مطابق کام کرے گا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے مشترکہ روڈ میپ اختیار کرنے پر اتفاق کیا۔ اس اقدام کا مقصد تجارتی روابط بڑھانے، سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے اور طویل المدتی اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانا ہے۔