’سر، یہاں بیڑی تو ملے گی‘، جیل میں سگریٹ نہ ملنے پر بالی ووڈ اداکار سنجے دت نے کیا کہا؟

بالی ووڈ اداکار سنجے دت نے اپنی جیل کی زندگی کے تجربات کو یاد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشکل حالات کے باوجود انھوں نے خود کو ٹوٹنے نہیں دیا اور جب ایک پولیس اہلکار نے انھیں بتایا کہ جیل میں سگریٹ نہیں ملے گا تو انھوں نے جواب دیا، ’سر، یہاں بیڑی تو ملے گی۔‘

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق سنجے دت نے شیکھر سمن کے ٹاک شو ’شیکھر ٹونائٹ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے اپنی گرفتاری، جیل میں گزارے گئے وقت اور اپنے خاندان پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بات کی۔

پروگرام کے دوران شیکھر سمن نے سنجے دت سے پوچھا کہ کیا جیل کے مشکل حالات میں کبھی انھیں اپنی زندگی ختم کرنے کا خیال آیا؟ سنجے دت نے جواب دیا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا۔

سنجے دت نے بتایا کہ انھیں سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوئی جب پہلی مرتبہ پولیس نے ان کے والد اور اداکار سنیل دت کے سامنے انھیں ہتھکڑیاں لگائیں۔ ان کے مطابق سنیل دت یہ منظر دیکھ کر صدمے میں آ گئے اور ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

سنجے دت کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے والد کو گلے لگایا اور انھیں سمجھایا کہ ہتھکڑیاں لگانا محض قانونی کارروائی کا حصہ ہے اور وہ پریشان نہ ہوں۔ تاہم ان کے بقول وہ خود اندر سے شدید تکلیف میں تھے لیکن اپنے والد کے سامنے مضبوط رہنا چاہتے تھے۔

اداکار نے کہا کہ ان کا مقدمہ تقریباً 24 سال تک چلتا رہا اور انھوں نے اس پورے عرصے میں حالات کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔

جیل کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے سنجے دت نے کہا کہ حکام کو شاید توقع تھی کہ جیل میں سہولیات نہ ملنے اور سخت حالات کے باعث وہ دباؤ میں آ جائیں گے، لیکن ان کے مطابق ایسا نہیں ہوا۔

انھوں نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک اہلکار نے ان سے کہا کہ ’یہاں تمھیں سگریٹ نہیں ملے گا، اب کیا کرو گے؟‘ جس پر سنجے دت نے جواب دیا، ’سر، یہاں بیڑی تو ملے گی۔‘

سنجے دت کے مطابق فلمی شہرت اور آسائشوں کے باوجود انھوں نے کبھی خود کو دوسروں سے برتر نہیں سمجھا۔ انھوں نے اس رویے کا کریڈٹ اپنے والدین کی تربیت اور دی لارنس سکول سناور میں اپنی تعلیم کو دیا۔

سنجے دت کو 19 اپریل 1993 کو ممبئی میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں سے متعلق کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر ٹاڈا اور آرمز ایکٹ کے تحت الزامات عائد کیے گئے تھے۔

2007 میں خصوصی ٹاڈا عدالت نے انھیں د-ہشت گردی سے متعلق الزامات سے بری کر دیا تھا، تاہم غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں آرمز ایکٹ کے تحت قصوروار قرار دیتے ہوئے چھ سال قید کی سزا سنائی تھی۔

2013 میں بھارتی سپریم کورٹ نے آرمز ایکٹ کے تحت ان کی سزا برقرار رکھی، تاہم قید کی مدت چھ سال سے کم کرکے پانچ سال کر دی۔ سنجے دت نے اسی سال مئی میں باقی سزا پوری کرنے کے لیے خود کو حکام کے حوالے کیا تھا۔

سنجے دت کو اچھے رویے کی بنیاد پر سزا میں رعایت ملنے کے بعد 25 فروری 2016 کو پونے کی یروڈا سینٹرل جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں