کراچی کے انڈس ہسپتال میں رواں سال جنوری سے ستمبر تک ریبیز کے 28 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ اسی عرصے کے دوران کتوں کے کاٹنے کے 14 ہزار سے زائد کیسز بھی ہسپتال لائے گئے۔
یہ اعداد و شمار انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک (آئی ایچ ایچ این) کی جانب سے ورلڈ ریبیز ڈے کے سلسلے میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران پیش کیے گئے۔
ہسپتال حکام کے مطابق حالیہ دو کیسز میں حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد کی چھ سالہ بچی اور دادو کا چار سالہ بچہ شامل ہیں۔ دونوں کیسز بالترتیب 20 اور 27 ستمبر کو ہسپتال میں رپورٹ ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال انڈس ہسپتال میں ریبیز کے باعث کم از کم نو اموات رپورٹ ہوئی تھیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں ہر سال اندازاً دو ہزار سے پانچ ہزار افراد ریبیز کے باعث جان سے جاتے ہیں اور تقریباً 96 فیصد کیسز متاثرہ کتوں کے کاٹنے سے منسلک ہوتے ہیں۔
انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے مطابق 2008 میں خصوصی ریبیز پریوینشن اینڈ ٹریننگ سینٹر کے قیام کے بعد سے ڈیڑھ لاکھ سے زائد کتوں کے کاٹنے کے کیسز کا علاج کیا جا چکا ہے۔ ادارہ عالمی ادارۂ صحت کے معیار کے مطابق پوسٹ ایکسپوژر پروفیلیکسیس (PEP) علاج بھی مفت فراہم کر رہا ہے، جبکہ ملک بھر میں 700 سے زائد طبی ماہرین کو تربیت دی جا چکی ہے۔
انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبدالباری خان کا کہنا تھا کہ اگر علامات ظاہر ہونے سے پہلے فوری طبی مدد حاصل کی جائے تو ویکسین کے ذریعے ریبیز سے مکمل طور پر بچاؤ ممکن ہے۔ انھوں نے بروقت طبی امداد اور عوامی آگاہی کی اہمیت پر زور دیا۔
سندھ کے چیف سیکریٹری سید آصف حیدر شاہ نے صوبے میں ریبیز اور کتوں کے کاٹنے کے رپورٹ ہونے والے کیسز میں اضافے پر کہا کہ زیادہ کیسز سامنے آنے کی ایک وجہ عوام میں بڑھتی ہوئی آگاہی بھی ہے اور اسے صرف بیماری کے واقعات میں اضافے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت طبی اداروں کے ساتھ مل کر 2030 تک کتوں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہونے والے ریبیز سے ہونے والی اموات کے خاتمے کے عالمی ہدف ’زیرو بائی 30‘ کے حصول کے لیے کام جاری رکھے گی۔
آئی ایچ ایچ این کے مطابق ’سیف سندھ پروگرام‘ کے تحت صوبے کے 90 سے زائد اینٹی ریبیز ریفرل مراکز سے تعلق رکھنے والے 160 طبی کارکنوں کو ماسٹر ٹرینرز کے طور پر تربیت دی جا چکی ہے، جبکہ پروگرام کا ہدف سندھ کے 112 ریفرل یونٹس تک رسائی حاصل کرنا ہے۔
ادارے نے کراچی اور بدین کے زیادہ خطرے والے علاقوں میں ایک ماہ تک جاری رہنے والی آگاہی مہم بھی مکمل کی، جس کے دوران تقریباً 10 ہزار طلبہ اور 300 سے زائد اساتذہ کو زخم کی ابتدائی دیکھ بھال، کتوں کے کاٹنے سے بچاؤ اور جانوروں کے ساتھ مناسب رویے سے متعلق معلومات فراہم کی گئیں۔