ازبکستان اور ڈنمارک کے درمیان شراکت داری بڑھانے کے وسیع امکانات

ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایووف نے ڈنمارک کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور تجارتی روابط کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر زور دیا ہے۔

2 اکتوبر کو تاشقند میں صدر شوکت مرزیایووف سے ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے ملاقات کی، جو سرکاری دورے پر ازبکستان پہنچے ہیں۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، تجارتی و اقتصادی، ثقافتی اور انسانی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عملی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔

ملاقات میں دوطرفہ تعاون میں حالیہ اضافے کو اطمینان بخش قرار دیا گیا۔ گزشتہ برس ازبکستان نے ڈنمارک کے لیے اپنا پہلا سفیر مقرر کیا، جو اسٹاک ہوم میں مقیم ہیں، جبکہ رواں سال ڈنمارک نے وسطی ایشیا کے لیے خصوصی نمائندہ مقرر کیا ہے۔

حکام کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران ازبکستان اور ڈنمارک کے درمیان باہمی تجارت تقریباً پانچ گنا بڑھ چکی ہے۔ ڈنمارک کی بڑی کمپنیوں کے اشتراک سے ازبکستان میں کان کنی، کیمیائی صنعت، خوراک، زراعت اور پانی کی فراہمی سمیت مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبے جاری ہیں۔

ملاقات میں توانائی، ادویہ سازی، ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس اور زرعی صنعتی شعبے میں ڈنمارک کی سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور فنی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

دونوں جانب سے تعلیم، ثقافت اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ علاقائی اور عالمی صورتحال سے متعلق امور پر بھی خیالات کا تبادلہ ہوا۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کے لیے قانونی اور ادارہ جاتی بنیادوں کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں