امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں تاحال کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آسکی، جبکہ قطر کی ثالثی کے باوجود دونوں ممالک اپنے بنیادی مؤقف میں نمایاں تبدیلی کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے مذاکرات سے واقف تین ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ قطر دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات کم کرنے اور کسی قابلِ قبول سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے مسلسل رابطے کر رہا ہے۔
قطر کے وزیر خارجہ کے ترجمان کے مطابق دوحہ امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کرا رہا ہے اور مشترکہ بنیاد تلاش کرنے کی کوشش جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق قطری ثالث علی الثوادی نے نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے کئی گھنٹے ملاقات کی۔ ملاقات میں قطر کی جانب سے پیش کیے گئے ایک ممکنہ سمجھوتے پر غور کیا گیا، جس میں آبنائے ہرمز سے متعلق ایرانی مطالبات اور ایران کے جوہری پروگرام پر امریکی مطالبات کو ایک ہی فریم ورک میں لانے کی کوشش کی گئی۔
عراقچی سے ملاقات کے بعد قطری ثالث نے امریکی حکام سے بھی رابطے کیے۔ مذاکرات میں آبنائے ہرمز، امریکی بحری ناکہ بندی اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر بنیادی اختلافات پر قابلِ قبول درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی گئی۔
ایران نے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کو سفارتی عمل سے مشروط کرتے ہوئے سات روزہ منصوبہ پیش کیا تھا۔ منصوبے کے تحت مخصوص شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کھولنے اور اس کے بعد وسیع تر مذاکرات شروع کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر ایرانی تجویز مسترد کرنے کا اعلان کیا، تاہم بعد میں امریکا اور ایران کے درمیان مزید مذاکرات کے امکان کا اظہار کیا۔
دوسری جانب واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ کسی بھی جامع معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات شامل ہونا ضروری ہیں، جبکہ تہران آبنائے ہرمز اور امریکی بحری ناکہ بندی جیسے معاملات کو فوری طور پر حل کرنے پر زور دے رہا ہے۔
یہی بنیادی اختلافات مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق قطر کے علاوہ دیگر علاقائی ثالث بھی امریکا اور ایران کے درمیان رابطے برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم فی الحال ایسا کوئی معاہدہ سامنے نہیں آیا جس سے مذاکرات میں نمایاں پیش رفت یا اختلافات کے خاتمے کی تصدیق ہوسکے۔