ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا نقشہ تبدیل کر کے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ کے نام سے شیئر کردیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر آبنائے ہرمز کا ایک نقشہ شیئر کیا ہے، جس پر اسے “Trump Strait” کے نام سے دکھایا گیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ نقشہ ایسے وقت میں جاری کیا گیا جب ایران نے اہم بحری راستہ دوبارہ کھولنے کے لیے امریکا کو نیا منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ کسی باضابطہ بین الاقوامی نام کی تبدیلی نہیں بلکہ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر استعمال کیا گیا نام ہے۔

ایران نے تجویز دی ہے کہ اگر امریکا بعض شرائط تسلیم کرے تو آبنائے ہرمز سات روز کے اندر دوبارہ مکمل طور پر کھولی جا سکتی ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے مطابق اس منصوبے میں امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا، ایرانی تیل کی فروخت پر پابندیوں میں نرمی اور خطے میں جنگ بندی شامل ہے۔ ایران نے امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی آمادگی بھی ظاہر کی ہے۔

حالیہ دنوں میں قطر امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں ثالثی کر رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق قطری ثالثوں کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان پیغامات کا تبادلہ بھی ہوا، جبکہ تہران پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ مناسب شرائط پوری ہونے پر آبنائے ہرمز ایک ہفتے میں کھولی جا سکتی ہے۔

تاہم وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کی سات روزہ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہا کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔ یہ دعویٰ نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی حکام سے منسوب ہے اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس کی الگ باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے باعث یہاں بحری آمدورفت متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی تیل کی قیمتوں اور خطے کی تجارت پر بھی دباؤ پڑا ہے۔

ٹرمپ اس سے پہلے بھی آبنائے ہرمز کا نام اپنے نام سے منسوب کرنے کی تجویز دے چکے ہیں۔ تازہ نقشے میں اسے “Trump Strait” لکھنے سے ایک بار پھر اس معاملے پر بحث شروع ہوگئی ہے، تاہم بین الاقوامی سطح پر اس بحری راستے کا تسلیم شدہ نام اب بھی آبنائے ہرمز ہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں