ابنِ سینا پر فخر کافی نہیں، سوال یہ ہے کہ ہم طب کو کیا دے رہے ہیں؟

کچھ شہر نقشے پر محض ایک نقطہ نہیں ہوتے، وہ یادداشت، تاریخ اور تہذیب ہوتے ہیں۔ سمرقند بھی انہی شہروں میں سے ایک ہے۔
صدیوں تک مشرق سے مغرب جانے والے راستے اس شہر میں آ کر ملتے رہے۔ یہاں صرف تجارت نہیں ہوئی بلکہ خیالات ملے، علم کا تبادلہ ہوا اور تہذیبوں نے ایک دوسرے سے سیکھا۔ ریاضی، فلکیات، فلسفہ اور طب ، یہ سب ایک ہی علمی ماحول میں پروان چڑھے۔اسی لیے آج سمرقند کی کسی میڈیکل فیکلٹی کے دروازے سے داخل ہونے والے نوجوان طالب علم کے کندھوں پر ایک ایسا ورثہ بھی موجود ہے جو نظر تو نہیں آتا، مگر اپنی وسعت اور اہمیت میں بہت بڑا ہے۔

لیکن ماضی کی عظمت صرف ہمارے لیے باعثِ فخر نہیں ہونی چاہیے۔یہ ہم پر ایک ذمہ داری بھی عائد کرتی ہے۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں خود سے ایک مشکل سوال پوچھنا چاہیے:

کیا ابنِ سینا جیسے عظیم علما کے نام پر فخر کرنا ہی ان کے علمی ورثے کو آگے بڑھانے کے لیے کافی ہے؟
میری رائے میں، نہیں۔

ابنِ سینا کو جاننا اہم ہے، لیکن یہ سمجھنا اس سے بھی زیادہ اہم ہے کہ ابنِ سینا سوچتے کیسے تھے۔
ان کی کتابوں کو اپنی لائبریریوں میں محفوظ رکھنا یقیناً قابلِ قدر ہے، لیکن اگر سینکڑوں سال گزرنے کے بعد بھی ہم نیا علم پیدا نہ کر سکیں، نئے سوال نہ اٹھا سکیں، نوجوانوں کو تحقیق کی طرف راغب نہ کر سکیں اور علم کی سرحد کو کم از کم ایک قدم آگے نہ بڑھا سکیں تو تاریخ ہمیں صرف ہمارا ماضی یاد دلاتی رہے گی۔

ہمیں یاد رہنا چاہئے کہ ہمیں اپنا مستقبل بھی تعمیر کرنا ہے۔علمی ورثہ ناموں سے نہیں، نئے سوالات سے زندہ رہتا ہے۔ابنِ سینا کا نام آتے ہی ہمارے ذہن میں ایک عظیم طبیب کا تصور ابھرتا ہے۔لیکن حقیقت میں ان کا ورثہ صرف طبی معلومات تک محدود نہیں تھا۔

مشاہدہ کرنا، سوال اٹھانا، علم کو منظم کرنا، منطقی انداز میں سوچنا اور انسانی جسم کو سمجھنے کی کوشش کرنا ،یہ سب بھی ان کے علمی ورثے کا حصہ ہیں۔

اور دراصل یہی سائنس کی روح ہے۔آج میڈیکل یونیورسٹیوں کی سب سے بڑی ذمہ داری صرف طلبہ تک موجودہ علم منتقل کرنا نہیں، کیونکہ آج جس علم کو ہم درست سمجھتے ہیں، ممکن ہے کل اس میں تبدیلی آ جائے۔نئی ادویات سامنے آئیں گی، بیماریوں کے نئے اسباب اور طریقۂ کار دریافت ہوں گے، جینیات اور مالیکیولر میڈیسن مزید ترقی کرے گی اور مصنوعی ذہانت طبی فیصلوں کا تیزی سے اہم حصہ بنتی جائے گی۔ممکن ہے وہ ٹیکنالوجیز جن کے نام سے بھی ہم آج واقف نہیں، کل ہمارے ہسپتالوں میں استعمال ہو رہی ہوں۔

اس لیے ہم اپنے طلبہ کو ہر سوال کا جواب نہیں سکھا سکتے۔لیکن ہم انہیں درست سوال پوچھنا ضرور سکھا سکتے ہیں۔میرے نزدیک یہی مستقبل کی طبی تعلیم کے اہم ترین تقاضوں میں سے ایک ہے۔طالب علم کی یادداشت کے ساتھ اس کا تجسس بھی بڑھانا ہوگا۔دنیا کے ہر ملک میں طبی تعلیم مشکل اور محنت طلب ہے۔

طلبہ اناٹومی، فزیالوجی، پیتھالوجی، فارماکولوجی، مائیکرو بائیولوجی اور کلینیکل علوم پڑھتے ہیں۔ ہزاروں صفحات کا مطالعہ کرتے اور امتحانات دیتے ہیں۔

لیکن ان سب کے بعد ہمیں خود سے ایک اور سوال پوچھنا چاہیے،
میڈیکل فیکلٹی کی کامیابی کا معیار یہ ہونا چاہیے کہ طالب علم نے کتنا کچھ یاد کیا، یا یہ کہ وہ مریض کی حالت کو کتنی درستگی سے سمجھ اور جانچ سکتا ہے؟

علم یقیناً ضروری ہے، مگر صرف علم ہی ڈاکٹر نہیں بناتا۔مریض کو توجہ سے سننا بھی طب ہے۔غیریقینی صورتِ حال میں درست فیصلہ کرنا بھی طب ہے۔

یہ تسلیم کرنا کہ “میں نہیں جانتا”، کسی ساتھی سے مشورہ مانگنا، مریض کو ایسی زبان میں سمجھانا جسے وہ سمجھ سکے، اور نئے سائنسی شواہد سامنے آنے پر برسوں پرانی اپنی رائے تبدیل کرنے کے لیے تیار ہونا بھی ایک اچھے ڈاکٹر کی خصوصیات ہیں۔اسی لیے ہماری یونیورسٹیوں کا کام صرف معلومات فراہم کرنا نہیں ہونا چاہیے۔

ہمیں طالب علم کا تجسس زندہ رکھنا ہوگا۔کیونکہ جہاں تجسس ختم ہوتا ہے، وہاں علم کی رفتار بھی سست پڑ جاتی ہے۔ڈاکٹر کے ساتھ محقق بھی تیار کرنا ہوگاطب کی تاریخ میں بہت سی عظیم دریافتوں کا آغاز بظاہر انتہائی سادہ سوالات سے ہوا۔

کیوں؟ کیسے؟ کیا اس کا کوئی دوسرا طریقہ بھی ہوسکتا ہے؟

کلینک میں ڈاکٹر کے سامنے آنے والا کوئی غیر معمولی کیس برسوں پر محیط سائنسی تحقیق کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔اسی لیے تحقیق کو صرف ماسٹرز، پی ایچ ڈی یا تعلیمی کیریئر تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے۔طالب علم کو میڈیکل فیکلٹی کے زمانے ہی سے سائنسی طرزِ فکر سے آشنا ہونا چاہیے۔ اسے سائنسی مقالہ پڑھنا، تحقیق کی خوبیوں اور کمزوریوں کو سمجھنا اور شماریاتی نتیجے اور طبی اہمیت کے درمیان فرق کرنا آنا چاہیے۔

اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ سائنسی علم کیسے وجود میں آتا ہے۔اور سب سے اہم بات یہ کہ اسے یقین ہونا چاہیے کہ ایک دن وہ خود بھی اس علم میں اضافہ کر سکتا ہے۔کسی یونیورسٹی کی طاقت صرف اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ وہاں سے کتنے طلبہ فارغ التحصیل ہوئے۔یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس یونیورسٹی نے سائنس کے سامنے کتنے نئے سوال رکھے۔

سمرقند میں ہم ایک مشترکہ مستقبل تعمیر کر رہے ہیں۔میرے نزدیک حالیہ برسوں میں ترکی اور ازبکستان کے درمیان صحت اور طبی تعلیم کے شعبوں میں بڑھتا ہوا تعاون اسی تناظر میں انتہائی اہم ہے۔کیونکہ اب بات صرف تعاون کی یادداشتوں پر دستخط تک محدود نہیں رہی۔ہم ایک ایسے حقیقی تعلیمی ماڈل کی بات کر رہے ہیں جہاں طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اساتذہ اپنے علم اور تجربات کا تبادلہ کر رہے ہیں، نئی فیکلٹیز قائم ہو رہی ہیں اور طلبہ فارغ التحصیل ہو کر عملی زندگی میں قدم رکھ رہے ہیں۔

سمرقند اسٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی اور جمہوریہ ترکی کی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے تعاون سے قائم یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز سمرقند میڈیکل فیکلٹی سمرقند میں طلبہ کو طبی تعلیم فراہم کر رہی ہے۔ہمارے لیے یہ محض ایک نئی تعلیمی فیکلٹی نہیں۔یہ ترکی اور ازبکستان کے تاریخی رشتوں کو سائنس اور طبی تعلیم کے ذریعے مستقبل تک لے جانے کی عملی شکل ہے۔

کلاس روم میں ہونے والی ہر علمی بحث، لیبارٹری میں ہونے والی ہر تحقیق اور تیار ہونے والا ہر نوجوان ڈاکٹر دونوں ملکوں کے درمیان اس پل کو مزید مضبوط بناتا ہے۔سمرقند کی صدیوں پرانی علمی روایت اور ترکی کا طبی تعلیم کا تجربہ یہاں ایک مشترکہ مقصد کے لیے یکجا ہو رہے ہیں۔

بخارا سے شروع ہونے والا سفر اب اپنے ڈاکٹر دے رہا ہے۔یہ تعاون صرف سمرقند تک محدود نہیں۔ازبکستان کے ایک اور قدیم علمی مرکز بخارا میں بھی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور بخارا اسٹیٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کا تعاون برسوں سے عملی تعلیمی سرگرمیوں میں تبدیل ہو چکا ہے۔بخارا میں قائم ابنِ سینا فیکلٹی آف میڈیسن اور ابنِ سینا ہیلتھ سروسز ووکیشنل اسکول اس تعاون کے ابتدائی اہم اداروں میں شامل تھے۔اب یہ نظام مزید وسعت اختیار کر رہا ہے اور طب کے علاوہ دندان سازی اور ہیلتھ سائنسز کے شعبوں میں بھی تعلیمی ڈھانچے تشکیل پا رہے ہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اب یہ صرف طلبہ کو داخلہ دینے والا نظام نہیں رہا۔اس تعلیمی ماڈل نے اپنے فارغ التحصیل طلبہ دینا شروع کر دیے ہیں۔میرے نزدیک بخارا کی ابنِ سینا میڈیکل فیکلٹی سے پہلے ڈاکٹروں کا فارغ التحصیل ہونا اس تعاون کے اہم ترین مراحل میں سے ایک ہے۔
کیونکہ دو یونیورسٹیوں کے تعاون کا اصل نتیجہ دستخط شدہ کاغذات نہیں ہوتے۔

اصل نتیجہ انسان ہوتا ہے۔وہ ڈاکٹر جو مریض کا علاج کرے۔وہ صحت کا ماہر جو معاشرے کی صحت بہتر بنانے میں حصہ ڈالے۔اور وہ نوجوان محقق جو نیا علم پیدا کرے۔

سمرقند، بخارا، تاشقند…

ازبکستان میں طبی تعلیم کے اس تعاون کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی ایک شہر تک محدود نہیں رہا۔سمرقند میں طبی تعلیم،بخارا میں طب، دندان سازی اور ہیلتھ سائنسز،اور تاشقند میں نرسنگ کی تعلیم۔

ان سب کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو اب ہمارے سامنے الگ الگ منصوبے نہیں بلکہ صحت کی تعلیم کا ایک ایسا نیٹ ورک ہے جو مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔میرے لیے اس نیٹ ورک کی سب سے اہم بات اداروں کے نام یا ان کی تعداد نہیں۔

اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ طلبہ ایک دوسرے سے سیکھیں، اساتذہ مل کر کام کریں، کلینیکل تجربات کا تبادلہ ہو، مشترکہ تحقیق کی ثقافت فروغ پائے اور ترکی و ازبکستان کی برادرانہ دوستی نئی نسل کی تعلیمی زندگی میں ایک حقیقی معنی اختیار کرے۔

یونیورسٹیاں اب تنہا ترقی نہیں کر سکتیں۔آج سائنس کسی ایک ملک یا یونیورسٹی کی تنہا سرگرمی نہیں رہی۔ایک ملک میں شروع ہونے والی تحقیق دوسرے ملک کی لیبارٹری کی مدد سے آگے بڑھ سکتی ہے۔ ایک یونیورسٹی میں تیار ہونے والا طریقۂ علاج ہزاروں کلومیٹر دور کسی مریض کی زندگی بدل سکتا ہے۔ایک ملک کا سائنس دان دوسرے ملک کے طالب علم کا اندازِ فکر تبدیل کر سکتا ہے۔اسی لیے مستقبل کی مضبوط یونیورسٹی صرف وہ نہیں ہوگی جو اپنے کیمپس کے اندر کامیاب ہو۔

بلکہ وہ یونیورسٹی ہوگی جو اپنا علم دوسروں کے ساتھ بانٹے، دنیا کے لیے اپنے دروازے کھولے، طلبہ کو مختلف علمی ماحول سے روشناس کرائے اور اساتذہ کو مشترکہ تحقیق کی طرف راغب کرے۔میری رائے میں ترکی اور ازبکستان کے درمیان قائم ہونے والے اس طبی تعلیمی ماڈل کا اگلا مرحلہ مشترکہ سائنسی تحقیق ہونا چاہیے۔

اگلا قدم صرف مل کر پڑھانا نہیں ہونا چاہیے۔اگلا قدم مل کر علم پیدا کرنا ہونا چاہیے۔سمرقند، بخارا، تاشقند اور ترکی کے نوجوان محققین کو ایک ہی سائنسی مسئلے کے حل کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔مشترکہ تحقیقی مراکز قائم ہونے چاہئیں۔کثیرالمراکز کلینیکل تحقیقات ہونی چاہئیں۔مشترکہ سائنسی مقالات کی تعداد بڑھنی چاہیے۔طلبہ اور اساتذہ کے تبادلے کو مزید فروغ ملنا چاہیے۔کیونکہ علمی تعاون کی بلند ترین منزل موجود علم بانٹنا نہیں بلکہ نیا علم مل کر پیدا کرنا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے دور میں ہم کیسا ڈاکٹر تیار کریں گے؟

طب اس وقت ایک بہت بڑی تکنیکی تبدیلی سے گزر رہی ہے۔مصنوعی ذہانت ریڈیولوجی کی تصاویر کا تجزیہ کر سکتی ہے، چند سیکنڈ میں بہت بڑی مقدار میں ڈیٹا پراسیس کر سکتی ہے اور کلینیکل فیصلوں میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔سائنسی لٹریچر کا جائزہ لینے میں جو کام پہلے کئی دن لیتا تھا، اب بہت کم وقت میں ممکن ہو رہا ہے۔ہمیں اس ترقی سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے، لیکن اسے بغیر سوال کیے قبول کرنا بھی درست نہیں۔

اصل سوال یہ ہونا چاہیے،

مصنوعی ذہانت کی موجودگی والی دنیا کے لیے ہم کیسے ڈاکٹر تیار کر رہے ہیں؟مستقبل کے ڈاکٹر کے لیے صرف معلومات رکھنا کافی نہیں ہوگا۔اسے معلومات کی سچائی اور معیار جانچنا آنا چاہیے۔ ٹیکنالوجی کے دیے گئے نتائج کو تنقیدی نظر سے دیکھنا، اپنے طبی فیصلے کی ذمہ داری لینا اور اخلاقی پہلوؤں کو سمجھنا ہوگا۔اور تمام تر ٹیکنالوجی کے باوجود اسے یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اس کے سامنے بیٹھا مریض محض ڈیٹا کا مجموعہ نہیں، ایک انسان ہے۔شاید ٹیکنالوجی جتنی ترقی کرے گی، طب کا انسانی پہلو اتنا ہی قیمتی ہوتا جائے گا۔

سفید کوٹ ہر جگہ ایک ہی ذمہ داری کی علامت ہے۔سمرقند ہو،بخارا ہو،تاشقند ہو، یا استنبول۔طب اور صحت کے شعبوں میں تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان ایک ہی بڑی ذمہ داری کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔سفید کوٹ صرف پیشے کا لباس نہیں۔یہ صدیوں سے جمع ہونے والے علم، مریض کے سامنے ذمہ داری اور علم کے تسلسل کی علامت ہے۔تعلیمی منتظمین کی حیثیت سے ہم نوجوانوں کے حوالے صرف آج کی طب نہیں کر رہے۔

ہم ان کے سپرد کل کی طب بھی کر رہے ہیں۔اسی لیے یہ کافی نہیں کہ ہمارے طلبہ صرف اچھے ڈاکٹر یا صحت کے اچھے ماہر بنیں۔انہیں ایسے انسان بننا چاہیے جو ہمیشہ بہتر راستہ تلاش کریں۔

علم کے ساتھ چلیں۔سوال کریں۔تحقیق کریں۔مریض کو سنیں۔نہ جانتے ہوں تو سیکھیں۔سیکھ جائیں تو دوسروں کو سکھائیں۔اور آنے والی نسل کے لیے پہلے سے بہتر نظامِ صحت چھوڑنے کی کوشش کریں۔ماضی ہمیں ذمہ داری بھی دیتا ہے۔سمرقند اور بخارا جیسے قدیم علمی شہروں میں کام کرنا یقیناً بہت بڑا اعزاز ہے۔لیکن تاریخی ورثہ صرف فخر نہیں دیتا۔وہ ذمہ داری بھی دیتا ہے۔کیونکہ آپ کا ماضی جتنا عظیم ہوگا، مستقبل کے لیے چھوڑا جانے والا آپ کا ورثہ بھی اتنا ہی بڑا ہونا چاہیے۔

ہم ابنِ سینا کو یاد کرتے ہیں۔البیرونی کو یاد کرتے ہیں۔الغ بیگ کو یاد کرتے ہیں۔ماضی کے عظیم طبیبوں اور سائنس دانوں سے اپنی نوجوان نسل کو روشناس کراتے ہیں۔لیکن ہمیں یہیں رک نہیں جانا۔ہمیں بھی وہی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جو انہوں نے کیا تھا۔

معلوم علم کی سرحد پر کھڑے ہو کر نامعلوم کی طرف ایک قدم اور بڑھانا۔آج سمرقند، بخارا اور تاشقند میں ہونے والی تعلیمی سرگرمیوں کو میں صرف آج کے منصوبوں کے طور پر نہیں دیکھتا۔ہم نہیں جانتے کہ یہاں تعلیم پانے والے نوجوان مستقبل میں کیا حاصل کریں گے۔
ممکن ہے سمرقند کا کوئی طالب علم علاج کا نیا طریقہ دریافت کرے۔ممکن ہے بخارا کا کوئی نوجوان ڈاکٹر ایسی بیماری کی تحقیق میں اہم کردار ادا کرے جو کروڑوں انسانوں کو متاثر کرتی ہے۔ممکن ہے تاشقند میں تعلیم حاصل کرنے والا کوئی ہیلتھ پروفیشنل مریضوں کی دیکھ بھال کا نیا ماڈل متعارف کرائے۔

اور شاید ازبکستان اور ترکی کے دو نوجوان محققین کی مشترکہ تحقیق ایک دن عالمی طبی ادب کا حصہ بن جائے۔ہم آج یہ نہیں جانتے۔لیکن یونیورسٹی کا اصل کام یہی ہے،ایسا ماحول پیدا کرنا جہاں یہ سب ممکن ہو سکے۔سائنس کی تاریخ بدلنے والے لوگ آسمان سے نہیں اترتے۔وہ کلاس رومز میں پروان چڑھتے ہیں۔لیبارٹریوں میں ان کے اندر تجسس پیدا ہوتا ہے۔کلینکس میں وہ مشاہدہ کرتے ہیں۔اپنے اساتذہ سے سوال کرتے ہیں۔دوسرے ملکوں کے ساتھیوں سے ملتے ہیں۔

مل کر سوچتے ہیں۔مل کر تحقیق کرتے ہیں۔اور پھر ایک دن خود سے پوچھتے ہیں،

“مجھ سے پہلے جو کچھ کیا گیا، میں نے اسے سیکھ لیا۔ اب سوال یہ ہے کہ میں طب کے علم میں کیا اضافہ کروں گا؟”

سمرقند سے بخارا، تاشقند سے استنبول تک پھیلے علم اور تعلیم کے اس پل کا سب سے بڑا مقصد، میری نظر میں، یہی ہونا چاہیے۔اپنے مشترکہ تاریخی ورثے کو صرف یاد کرنا نہیں، بلکہ اسی بنیاد پر مل کر ایک نیا مستقبل تعمیر کرنا۔اور شاید ابنِ سینا کو پیش کیا جانے والا سب سے بڑا خراجِ تحسین بھی یہی ہے کہ ہم ان کا نام بار بار لینے تک محدود نہ رہیں، بلکہ ایسی نئی نسلیں تیار کریں جو علم اور طب میں اپنا نیا اضافہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔

اپنا تبصرہ لکھیں