جاپان کے 17 سالہ تیراک شن اوہاشی نے ایشین گیمز 2026 میں مردوں کی 200 میٹر بریسٹ اسٹروک ریس میں نیا عالمی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا۔ اوہاشی نے ٹوکیو ایکواٹکس سینٹر میں ریس 2 منٹ 4.83 سیکنڈ میں مکمل کی۔
اوہاشی نے چین کے چِن ہائی یانگ کا 2023 میں قائم کیا گیا عالمی ریکارڈ توڑا۔ چینی تیراک نے فوکوکا میں ہونے والی عالمی چیمپئن شپ میں 200 میٹر بریسٹ اسٹروک 2 منٹ 5.48 سیکنڈ میں مکمل کیا تھا۔ جاپانی نوجوان نے اس ریکارڈ سے 0.65 سیکنڈ کم وقت لیا۔
کامیابی کے بعد شن اوہاشی نے کہا کہ عالمی ریکارڈ توڑنا ان کا ہدف تھا اور اسے حاصل کرنے پر وہ بے حد خوش ہیں۔ انہوں نے اپنی کامیابی کا کریڈٹ خاندان، مداحوں اور ان تمام افراد کو دیا جنہوں نے ان کی تیاری میں مدد کی۔ ان کا اگلا ہدف عالمی چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل جیتنا ہے۔
فائنل میں ڈینس پیٹراشوف اوہاشی سے 3.84 سیکنڈ پیچھے رہتے ہوئے سلور میڈل کے حقدار قرار پائے، جبکہ جنوبی کوریا کے چو سنگ جے نے 2 منٹ 8.76 سیکنڈ کے وقت کے ساتھ برونز میڈل حاصل کیا۔
اوہاشی کے لیے یہ ایشین گیمز میں دوسری بڑی کامیابی ہے۔ وہ اس سے قبل مردوں کی 100 میٹر بریسٹ اسٹروک میں بھی چین کے ڈونگ ژی ہاؤ کے ساتھ مشترکہ طور پر گولڈ میڈل جیت چکے ہیں۔ اولمپک کونسل آف ایشیا کے مطابق اوہاشی نے 200 میٹر فائنل میں آغاز ہی سے برتری حاصل کی اور اسے اختتام تک برقرار رکھا۔
17 سالہ جاپانی تیراک اب عالمی تیراکی کے نمایاں نوجوان کھلاڑیوں میں شامل ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس کامیابی پر رکنا نہیں چاہتے اور عالمی چیمپئن شپ کے بعد اولمپکس میں بھی گولڈ میڈل جیتنے کو اپنا ہدف بنا چکے ہیں۔