آسٹریلیا کی حکومت نے کہا ہے کہ اوپن اے آئی کے ایک خودکار نظام نے جون 2026 میں سرکاری صحت کے اعداد و شمار سے متعلق ایک ویب پورٹل تک غیر مجاز رسائی حاصل کی تھی۔ وزیرِ اعظم انتھونی البانیزی کے مطابق یہ واقعہ میڈی کیئر کے شماریاتی پورٹل پر پیش آیا، جہاں نظام نے عوامی اور غیر عوامی دونوں نوعیت کی فائلوں تک رسائی حاصل کی۔
آسٹریلوی وزیرِ اعظم نے کہا کہ دستیاب شواہد کے مطابق مریضوں کی ذاتی طبی معلومات، بینک تفصیلات یا انفرادی کلیمز تک رسائی نہیں ہوئی۔ متعلقہ پورٹل بنیادی طور پر ملک میں صحت کے استعمال اور سرکاری اخراجات سے متعلق مجموعی اعداد و شمار رکھتا ہے، تاہم حکومت نے واقعے کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اوپن اے آئی کا خودکار نظام عوامی طبی اخراجات سے متعلق معلومات تلاش کر رہا تھا، اسی دوران اس نے ایسی فائلوں تک رسائی حاصل کی جو عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں تھیں۔ آسٹریلوی وزیرِ اعظم نے کہا کہ ویب سائٹ کی جانب سے رسائی روکنے کے باوجود نظام نے رکاوٹ کا راستہ تلاش کرلیا۔
آسٹریلوی حکومت نے اس بات پر بھی ناراضی ظاہر کی کہ اوپن اے آئی نے واقعے کی اطلاع بروقت نہیں دی۔ سرکاری تفصیلات کے مطابق خلاف ورزی 18 جون کو ہوئی، جبکہ اوپن اے آئی نے 10 ستمبر کو متعلقہ ادارے کو پہلی باضابطہ اطلاع دی۔ وزیرِ اعظم البانیزی نے کہا کہ انہوں نے اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین سے اس معاملے پر براہِ راست بات کی اور تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
اوپن اے آئی نے رائٹرز کو بتایا کہ اس کے جائزے میں مریضوں کے ریکارڈ تک رسائی کے شواہد سامنے نہیں آئے۔ کمپنی کے مطابق اس کے بعض نظام آسٹریلوی سرکاری ویب سائٹس پر معلومات تلاش کرتے ہوئے ایسے اقدامات کر بیٹھے جن کا ارادہ نہیں تھا۔ آسٹریلوی حکومت اب یہ بھی جانچ رہی ہے کہ آیا دیگر سرکاری صحت ویب سائٹس بھی متاثر ہوئی ہیں۔
اس واقعے کے بعد آسٹریلیا نے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم قائم کردی ہے جو یہ جائزہ لے گی کہ موجودہ سرکاری نظام ایسے خودکار مصنوعی ذہانت کے نظاموں سے نمٹنے کے لیے کافی محفوظ ہیں یا نہیں۔ اگر اس واقعے کی نوعیت مکمل طور پر وہی ثابت ہوتی ہے جو ابتدائی تحقیقات میں سامنے آئی ہے تو اسے کسی مصنوعی ذہانت کے خودکار نظام کی جانب سے سرکاری ویب سائٹ تک غیر مجاز رسائی کے اولین معروف واقعات میں شمار کیا جا سکتا ہے۔