پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان نے پارٹی کارکنوں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ 27 ستمبر کے احتجاج کے دوران اڈیالہ جیل کے قریب مارچ یا اجتماع نہ کریں۔ قاسم خان نے یہ اپیل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کی۔
قاسم خان نے دعویٰ کیا کہ انہیں ذرائع سے ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ اڈیالہ جیل کے قریب کسی احتجاج یا بڑے اجتماع کو جیل پر ممکنہ ’جوابی کارروائی‘ کے لیے جواز کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسی کسی صورتحال سے عمران خان کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ وہ کوئی ایسا موقع یا بہانہ فراہم نہ کریں جس کی آڑ میں احتجاج کے دوران ان کے والد کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے۔ قاسم خان اس سے قبل بھی اپنے والد کی جیل میں سلامتی اور حالات سے متعلق خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کے مطالبات کے ساتھ 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ اور ملک گیر احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ پارٹی قیادت اس سے قبل بھی واضح کر چکی ہے کہ 27 ستمبر کا احتجاج طے شدہ پروگرام کے مطابق ہوگا۔
مارچ سے قبل اسلام آباد اور پنجاب میں سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ پنجاب میں دفعہ 144 نافذ ہے، جبکہ حکومت نے اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں پاکستان رینجرز کی تعیناتی کی بھی منظوری دی ہے۔
اس دوران عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو بھی مینٹیننس آف پبلک آرڈر قانون کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ ان حراستی احکامات کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا، تاہم عدالت نے عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی فوری رہائی کی درخواست پر فوری حکم جاری نہیں کیا اور متعلقہ فریقوں سے جواب طلب کیا۔