رات کے وقت گاڑی چلاتے ہوئے سامنے سے آنے والی ہیڈ لائٹس کی چکاچوند، روشنی کے گرد حلقے اور دھندلا پن محسوس کرنے والے افراد کے لیے تیار کی گئی تجرباتی آئی ڈراپس نے آخری مرحلے کے کلینیکل ٹرائلز میں حوصلہ افزا نتائج دکھائے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی کمپنی ’اوپس جینیٹکس‘ کی تیار کردہ ان آئی ڈراپس میں 0.75 فیصد ’فینٹولامین‘ نامی دوا استعمال کی گئی۔ پہلے تجربے میں 145 ایسے افراد کو شامل کیا گیا جنہیں کم روشنی یا رات کے وقت گاڑی چلاتے ہوئے نظر کی کمزوری، تیز روشنی کی چکاچوند، روشنی کے گرد حلقے اور ستاروں جیسی شعاعیں نظر آنے کی شکایت تھی۔
تحقیق کے دوران کچھ افراد کو تجرباتی آئی ڈراپس جبکہ دوسرے گروپ کو ایسی بے اثر آئی ڈراپس دی گئیں جنہیں صرف نتائج کا موازنہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ آٹھ روز بعد تجرباتی دوا استعمال کرنے والے 13 فیصد افراد کی نظر میں نمایاں بہتری دیکھی گئی، جبکہ دوسرے گروپ میں یہ شرح صرف 3 فیصد رہی۔
پندرہ روز بعد تجرباتی آئی ڈراپس استعمال کرنے والے 21 فیصد افراد کی نظر میں مزید بہتری سامنے آئی، جبکہ موازنہ کرنے والے گروپ میں کوئی خاص تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔ مریضوں نے رات کے وقت گاڑی چلاتے ہوئے ہیڈ لائٹس کی چکاچوند، روشنی کے گرد حلقوں اور تیز روشنی سے پیدا ہونے والی دشواری میں بھی واضح کمی رپورٹ کی۔
محققین کے مطابق یہ آئی ڈراپس آنکھ کی پتلی کو معتدل انداز میں سکیڑتی ہیں، جس سے تیز روشنی کا اثر کم ہو سکتا ہے اور رات کے وقت سڑک اور سامنے سے آنے والی گاڑیوں کو دیکھنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔ تحقیق کے مطابق دوا کا اثر کم از کم 20 گھنٹے تک برقرار رہ سکتا ہے۔
اس تحقیق میں شامل بہت سے افراد کو ’لیزک‘ سمیت آنکھوں کی بعض سرجریز کے بعد رات کے وقت ڈرائیونگ میں دشواری کا سامنا تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ دوسرے ’فیز تھری‘ ٹرائل میں بھی رات اور صبح یا شام کے وقت ڈرائیونگ کے دوران نظر میں بہتری کے ابتدائی نتائج سامنے آئے ہیں۔
امریکی ادارے ’ایف ڈی اے‘ نے ان آئی ڈراپس کو شدید اور مستقل نائٹ ڈرائیونگ کی مشکلات کے علاج کے لیے ’فاسٹ ٹریک‘ کا درجہ دیا ہے، جس سے دوا کی منظوری کے عمل میں تیزی آ سکتی ہے۔ تاہم یہ آئی ڈراپس ابھی تجرباتی مرحلے میں ہیں اور عام استعمال کے لیے حتمی منظوری نہیں ملی۔