بنگلہ دیش کے وزیرِ صحت و خاندانی بہبود سردار محمد سخاوت حسین نے چین سے ملک کے صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری، تکنیکی معاونت اور تربیت فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت بنیادی صحت کی سہولیات بہتر بنانے کو ترجیح دے رہی ہے اور مختلف علاقوں میں 20 بڑے ہسپتال قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
یہ بات انہوں نے چین کے صوبہ ہائنان میں بوآؤ لیچینگ انٹرنیشنل میڈیکل ٹورازم پائلٹ زون میں ہائنان کے سینئر حکام سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں صوبائی کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری فینگ فے اور نائب گورنر شیے جِنگ بھی شریک تھے۔
ملاقات کے دوران بنگلہ دیشی میڈیکل طلبہ کے لیے اسکالرشپس، ڈاکٹروں کے تبادلوں اور تربیت، ٹراپیکل بیماریوں کی روک تھام اور روایتی چینی طب کے شعبے میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بریسٹ کینسر، خسرہ، ڈینگی اور تھیلیسیمیا سمیت مختلف بیماریوں سے نمٹنے کے چیلنجز بھی زیرِ بحث آئے۔
بنگلہ دیشی وزیرِ صحت نے ہائنان کی صنعتی کمپنیوں کو ملک میں طبی سامان تیار کرنے کے لیے سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔ ان کے مطابق دستانے، ماسک اور بلڈ بیگز جیسی ضروری طبی مصنوعات کی مقامی سطح پر تیاری سے ملکی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ اضافی پیداوار برآمد کرنے کے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
چینی حکام نے بنگلہ دیشی ڈاکٹروں کے دوروں، میڈیکل ایجوکیشن، تربیت اور سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لینے میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ دونوں فریقوں نے صحت کے شعبے میں دوطرفہ تعاون مزید بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی۔
ملاقات میں بنگلہ دیشی وزارتِ صحت، چین میں بنگلہ دیشی سفارت خانے اور نجی شعبے کے نمائندے بھی شریک تھے، جبکہ دونوں جانب سے مستقبل میں صحت، طبی تعلیم اور میڈیکل مینوفیکچرنگ میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر زور دیا گیا۔