انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ برکس کے نئی دہلی اعلامیے میں پہلگام حملے کی مذمت انڈین خارجہ پالیسی کی ایک اہم کامیابی ہے۔ ان کے مطابق اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ اجلاس میں ایسے ممالک بھی موجود تھے جن کے پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔
نئی دہلی میں 12 اور 13 ستمبر کو ہونے والے 18ویں برکس سربراہی اجلاس کے اختتام پر 45 صفحات پر مشتمل مشترکہ اعلامیہ متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ اعلامیے میں 22 اپریل 2025 کو پہلگام میں ہونے والے حملے کی مذمت کی گئی، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اعلامیے میں دہشت گردی کی تمام شکلوں کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے سرحد پار دہشت گردی، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی پر زور دیا گیا۔ تاہم اعلامیے میں پاکستان کا نام نہیں لیا گیا۔
سرینگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ پہلگام کا نام واضح طور پر اعلامیے میں شامل ہونا بذاتِ خود اہم پیش رفت ہے۔ ان سے جب پاکستان کا نام شامل نہ ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ اس معاملے پر انڈیا کی وزارتِ خارجہ بہتر جواب دے سکتی ہے۔
عمر عبداللہ نے چین اور انڈیا کے تعلقات میں بہتری اور سرحدی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا بھی خیر مقدم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان بھی کشیدگی کم کرنے اور مسائل کے حل کے لیے اسی نوعیت کی پیش رفت ہو گی۔
چین کی جانب سے انڈین سفارت کاری کی تعریف سے متعلق سوال پر عمر عبداللہ نے کہا کہ انڈیا کو اپنی خارجہ پالیسی کے لیے دوسرے ممالک سے توثیق لینے کی ضرورت نہیں اور اسے اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلے کرنے چاہییں۔ برکس اعلامیے کو بھارتی حلقوں نے سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔