تمام ریاستی ادارے آئینی حدود کے پابند ہیں: چیف جسٹس امین الدین خان

وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے آئین کی بالادستی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی اختیار کا ہر استعمال آئین کی مقرر کردہ حدود کے اندر ہونا چاہیے۔

اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آئین عوام کی اجتماعی مرضی کا سب سے اعلیٰ اظہار ہے اور اس کے تحت قائم ہونے والا ہر ادارہ اپنی قانونی حیثیت اور اختیارات آئین ہی سے حاصل کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت قائم ادارے نہ صرف اپنے اختیارات آئین سے حاصل کرتے ہیں بلکہ ان پر عائد آئینی حدود کے بھی پابند ہوتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کا قیام پاکستان کی آئینی تاریخ میں ایک اہم ادارہ جاتی پیش رفت ہے۔ یہ عدالت نومبر 2025 میں منظور ہونے والی 27ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ آئینی مقدمات کی سماعت عام مقدمات سے مختلف نوعیت رکھتی ہے کیونکہ ان میں ریاستی ڈھانچے، آئینی اختیارات کی تقسیم، بنیادی حقوق اور آئینی نظام کے تحفظ جیسے اہم معاملات زیرِ غور آتے ہیں۔

چیف جسٹس امین الدین خان کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کو اپنے قیام کے وقت مکمل انتظامی اور ادارہ جاتی ڈھانچہ میسر نہیں تھا اور عدالت کو عدالتی ذمہ داریاں ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا نظام بھی قائم کرنا پڑا۔

انہوں نے بتایا کہ عدالت نے گزشتہ دس ماہ کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی، تحقیق، عدالتی ترجمے، تربیت اور میڈیا امور سمیت مختلف شعبے قائم کیے ہیں۔

چیف جسٹس نے عدالت کی موجودہ عمارت میں جگہ کی کمی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ تقریباً 100 ملازمین کے لیے بنائی گئی عمارت میں اب قریب 400 افسران اور اہلکار کام کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ادارے صرف عمارتوں سے نہیں بنتے بلکہ لوگوں کے عزم، نظم و ضبط، قربانی اور اجتماعی ذمہ داری سے مضبوط ہوتے ہیں

اپنا تبصرہ لکھیں