امریکی مصنوعی ذہانت کمپنی اینتھروپک نے کہا ہے کہ اس نے اپنے اے آئی ماڈلز کو ریاستی سرپرستی میں نگرانی اور جاسوسی کے لیے استعمال کرنے کے متعدد واقعات کا سراغ لگا کر انہیں روکا ہے۔ کمپنی کے مطابق ایسے واقعات چین، ایران اور مغربی افریقہ سے منسلک پائے گئے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اینتھروپک نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا کہ یہ سرگرمیاں جنوری سے جولائی 2026 کے درمیان سامنے آئیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ بعض کارروائیوں میں بیرون ملک مقیم سیاسی مخالفین، اقلیتی برادریوں اور حکومت مخالف شخصیات کی نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ہانگ کانگ میں جمہوریت کے حامی افراد، تبت اور فالون گونگ سے وابستہ کمیونٹیز کے ساتھ بیرون ملک مقیم ایرانی اقلیتی گروہوں اور ایرانی حکومت کے مخالفین کو بھی نگرانی کا ہدف بنایا گیا۔
اینتھروپک نے دعویٰ کیا کہ ایک معاملے میں ایران سے منسلک عناصر نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے لوگوں کی شناخت کرنے کا طریقہ تیار کیا۔ ایک دوسرے معاملے میں مالی کی قومی سلامتی سے وابستہ ایک کنٹریکٹر نے انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال ہونے والے سافٹ ویئر کی تیاری میں اینتھروپک کے اے آئی ماڈل کلاڈ سے مدد لی۔
کمپنی نے چینی اے آئی کمپنیوں مون شاٹ اور ڈیپ سیک پر بھی الزام عائد کیا کہ انہوں نے کلاڈ سے حاصل ہونے والے جوابات کو اپنے اے آئی ماڈلز بہتر بنانے کے لیے خفیہ طور پر استعمال کیا۔ اینتھروپک کے مطابق ایک دس روزہ عرصے میں مون شاٹ نے 5 ہزار سے زائد مبینہ جعلی اکاؤنٹس کے نیٹ ورک کے ذریعے تقریباً 3 لاکھ صارف درخواستیں کلاڈ تک پہنچائیں۔
اینتھروپک کا کہنا ہے کہ اس نے ہتھیاروں کے ڈیزائن، مشتبہ حیاتیاتی تحقیق اور آن لائن فراڈ سے متعلق اپنے ماڈلز کے غلط استعمال کی کوششیں بھی روکی ہیں۔ تاہم حیاتیاتی تحقیق سے متعلق بعض معاملات میں کمپنی نے واضح کیا کہ متعلقہ افراد کے نقصان دہ ارادے ثابت نہیں ہوئے۔
دوسری جانب چین نے اینتھروپک کی رپورٹ میں عائد الزامات پر اعتراض کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ چین مصنوعی ذہانت کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی حمایت کرتا ہے اور چین کے خلاف حقائق کو مسخ کرنے، حملوں اور الزام تراشی کی مخالفت کرتا ہے۔