ازبکستان میں وسطی ایشیا کے پہلے اسٹوڈنٹ اسپورٹس فورم کا انعقاد

وسطی ایشیا میں یونیورسٹی سطح کے کھیلوں کے فروغ اور علاقائی تعاون کو نئی سمت دینے کے لیے ازبکستان پہلی مرتبہ اسٹوڈنٹ اسپورٹس فورم آف سینٹرل ایشیا کی میزبانی کرے گا۔ یہ فورم 29 ستمبر سے 2 اکتوبر 2026 تک منعقد ہوگا، جس میں خطے کے مختلف ممالک کی یونیورسٹی اسپورٹس تنظیموں کے نمائندے شرکت کریں گے۔

یہ فورم انٹرنیشنل یونیورسٹی اسپورٹس فیڈریشن (FISU) کے صدر لیونز ایڈر کے دورۂ ازبکستان کے موقع پر منعقد کیا جا رہا ہے۔ فورم کا بنیادی مقصد یونیورسٹی اور طلبہ کے کھیلوں کے شعبے میں ازبکستان کے تجربات کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا، خطے میں طلبہ کے لیے کھیلوں کے مواقع کو وسعت دینا اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان عملی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

فورم میں FISU کی قیادت کے علاوہ قازقستان، کرغزستان، منگولیا، تاجکستان اور ترکمانستان کی یونیورسٹی اسپورٹس فیڈریشنز کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔ اجلاس کے دوران شرکا طلبہ کے کھیلوں کو جدید تقاضوں کے مطابق فروغ دینے کے طریقوں، یونیورسٹی اسپورٹس کو درپیش موجودہ مسائل اور مستقبل میں علاقائی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کریں گے۔

اس فورم کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یونیورسٹی اسپورٹس اب محض تفریح یا صحت کی سرگرمی نہیں رہے بلکہ نوجوانوں کی تربیت، بین الاقوامی روابط اور ملکوں کے درمیان عوامی سطح پر تعلقات کے فروغ کا بھی ایک ذریعہ بن چکے ہیں۔ ایسے علاقائی پلیٹ فارمز کے ذریعے طلبہ کو مختلف ممالک کے کھلاڑیوں کے ساتھ مقابلے اور تجربات کے تبادلے کے مواقع ملتے ہیں، جبکہ کھیلوں کے انتظام، کوچنگ، ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ اور یونیورسٹی سطح کے مقابلوں کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی بھی تشکیل دی جا سکتی ہے۔

ازبکستان کی جانب سے اس فورم کی میزبانی ملک میں یونیورسٹی اسپورٹس کے بڑھتے ہوئے کردار اور کھیلوں کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو اہمیت دینے کی کوششوں کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ فورم کے ذریعے ازبکستان اپنے تجربات دوسرے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ شیئر کرے گا، جبکہ شریک ممالک بھی طلبہ کے کھیلوں کے حوالے سے اپنی پالیسیوں اور عملی تجربات پیش کریں گے۔

دورۂ ازبکستان کے دوران FISU کے صدر لیونز ایڈر فائیو انیشی ایٹوز اولمپیاڈ کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔ یہ سرگرمی نوجوانوں میں کھیلوں کے ساتھ ساتھ صحت مند طرزِ زندگی، باصلاحیت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور مختلف شعبوں میں ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے وسیع تر تصور سے منسلک ہے۔

یوں وسطی ایشیا کا پہلا اسٹوڈنٹ اسپورٹس فورم صرف ایک کھیلوں کی سرگرمی نہیں بلکہ خطے کے نوجوانوں کو کھیلوں کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب لانے، تجربات شیئر کرنے اور یونیورسٹی اسپورٹس کے لیے مشترکہ مستقبل کی بنیاد رکھنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں