پاکستان کے سب سے بڑے ایٹمی بجلی گھر چشمہ نیوکلیئر پاور پروجیکٹ یونٹ فائیو (سی-فائیو) کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز آج (پیر) سے ہو رہا ہے۔ یہ ایٹمی پاور پلانٹ چینی تعاون سے تعمیر کیا جا رہا ہے اور اس کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 1,200 میگاواٹ ہوگی۔
افتتاحی تقریب میں پلانٹ کی بنیاد کے لیے فرسٹ کنکریٹ پورنگ کی جائے گی، جو تعمیر کے باقاعدہ آغاز کی علامت ہے۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) نے یہ تقریب پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی (PNRA) سے تعمیر کی اجازت ملنے کے بعد منعقد کی ہے۔
اس اہم موقع پر پاکستان اور چین کے اعلیٰ حکام بھی موجود ہوں گے۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اس وقت ملک میں چھ ایٹمی توانائی پلانٹس چلا رہا ہے، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 3,530 میگاواٹ ہے۔
سی-فائیو پلانٹ کی تعمیر چشمہ نیوکلیئر پاور جنریشن سٹیشن (CNPGS) میں کی جا رہی ہے، جہاں پہلے ہی چار ایٹمی توانائی پلانٹس موجود ہیں۔ ان پلانٹس میں سی-ون اور سی-ٹو (ہر ایک کی پیداواری صلاحیت 325 میگاواٹ) اور سی-تھری اور سی-فور (ہر ایک کی پیداواری صلاحیت 340 میگاواٹ) شامل ہیں۔
سی-فائیو کی تکمیل کے بعد یہ پاکستان کا سب سے بڑا نیوکلیئر پاور پلانٹ بن جائے گا، جس کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 1,200 میگاواٹ ہوگی۔ اس کے علاوہ کراچی نیوکلیئر پاور جنریشن سٹیشن (KNPGS) میں دو نیوکلیئر پاور پلانٹس کے ٹو اور کے تھری موجود ہیں، جن کی پیداواری صلاحیت 1,100 میگاواٹ فی یونٹ ہے۔
واضح رہے کہ سی-فائیو کا سنگ بنیاد 14 جولائی 2023 کو وزیر اعظم پاکستان نے رکھا تھا۔