پاکستانی ٹیم خوف کے ساتھ کھیل رہی ہے، عاقب جاوید کو آئینہ دیکھنے کی ضرورت ہے: پاکستان کے سابق ٹیسٹ کوچ جیسن گلیسپی کی چیف سلیکٹر عاقب جاوید پر تنقید

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کوچ جیسن گلیسپی نے قومی ٹیم کی حالیہ کارکردگی اور سلیکشن پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھلاڑی خوف کے ساتھ کھیلتے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ چیف سلیکٹر عاقب جاوید کو اپنی پالیسیوں کا جائزہ لینا چاہیے۔

آسٹریلوی اخبار دی آسٹریلین سے گفتگو کرتے ہوئے گلیسپی نے کہا کہ سلمان علی آغا پہلے ٹیسٹ میں ٹیم کی قیادت کر رہے تھے، لیکن دوسرے ٹیسٹ سے باہر کر دیے گئے اور تیسرے ٹیسٹ سے قبل انہیں واپس بھیج دیا گیا۔ ان کے مطابق اس طرح کے فیصلے واضح سلیکشن حکمت عملی کی کمی ظاہر کرتے ہیں۔

گلیسپی نے عاقب جاوید پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سلیکشن کے فیصلے بار بار تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عاقب جاوید نے حالیہ مسائل کا ذمہ دار سابق وائٹ بال کوچ گیری کرسٹن اور انہیں قرار دیا، حالانکہ دونوں اب ٹیم مینجمنٹ کا حصہ نہیں ہیں۔

سابق پاکستانی کوچ نے دعویٰ کیا کہ سلیکٹرز اور کھلاڑیوں کے درمیان رابطے کا بھی فقدان ہے۔ ان کے مطابق جن کھلاڑیوں کو ٹیم سے نکالا گیا، انہیں بعض اوقات اس فیصلے کا علم اہل خانہ، دوستوں یا میڈیا کے ذریعے ہوا، جسے انہوں نے کھلاڑیوں کے ساتھ غیر مناسب رویہ قرار دیا۔

پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں اننگز اور 103 رنز جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں 194 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ تیسرا اور آخری ٹیسٹ 9 ستمبر کو برطانیہ کے شہر برمنگھم کے ایجبسٹن گراؤنڈ میں شروع ہوگا۔

پاکستان ٹیم میں حالیہ تبدیلیوں کے تحت ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور فاسٹ بولنگ کوچ عمر گل کو تبدیل کر دیا گیا، جبکہ سات کھلاڑیوں کو انگلینڈ سے واپس بھیج دیا گیا۔ مائیک ہیسن اور ایشلے نوفکے نے دورے کے باقی حصے کے لیے ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں