صدر زرداری نے مدرسہ رجسٹریشن بل پر کئی ماہ کی تاخیر کے بعد دستخط کر دیے

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے دینی مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق سوسائٹیز رجسٹریشن (ترمیمی) بل 2024 پر دستخط کر دیے۔ یہ بل پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد کئی مہینوں سے التوا کا شکار تھا۔

بل کی منظوری اور اہم نکات
عرب نیوز کے مطابق، یہ بل اکتوبر 2024 میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کیا گیا تھا، لیکن صدر زرداری نے اس پر دستخط سے قبل بین الاقوامی ذمہ داریوں کا جائزہ لینے کے لیے وقت لیا۔ بل کے تحت دینی مدارس کو وزارت تعلیم کے بجائے وزارت صنعت کے ساتھ رجسٹر کیا جائے گا۔ غیر رجسٹرڈ مدارس کو چھ ماہ کے اندر رجسٹریشن کرانی ہوگی اور نئے قائم ہونے والے مدارس کو اپنے قیام کے ایک سال کے اندر رجسٹریشن مکمل کرنا ہوگی۔

بل کی منظوری کا سیاسی پس منظر
بل کی منظوری کے لیے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے حکومت کی حمایت کی، جو وزیراعظم شہباز شریف کی مخلوط حکومت کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں اہم تھی۔ جے یو آئی نے بل کی منظوری کے لیے بھرپور مہم چلائی اور اس پیش رفت کو دینی مدارس کے تحفظ کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔
جے یو آئی نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس اسلام کا قلعہ اور پاکستان کے نظریاتی جغرافیہ کے محافظ ہیں۔ ہم ان کے تحفظ کے لیے اپنا کردار جاری رکھیں گے۔

یہ بل مذہبی حلقوں میں طویل عرصے سے زیر بحث تھا اور اس کی منظوری سے دینی مدارس کی رجسٹریشن کا نظام بہتر بنانے کی توقع ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں