برطانیہ میں طبی شعبے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پہلی بار مصنوعی ذہانت کی مدد سے دماغ کی پیچیدہ سرجری کامیابی سے انجام دی گئی۔ اس آپریشن کے دوران مصنوعی ذہانت نے سرجنز کو حقیقی وقت میں اہم معلومات فراہم کیں، جس سے مریض کی بینائی محفوظ رکھنے میں مدد ملی۔
یہ سرجری لندن کے نیشنل ہسپتال فار نیورولوجی اینڈ نیوروسرجری میں یونیورسٹی کالج لندن ہسپتال کے تحت ہونے والی ایک تحقیق کے حصے کے طور پر کی گئی۔ 48 سالہ رائس ہربرٹ دماغی رسولی کے علاج کے لیے اس ٹیکنالوجی سے سرجری کروانے والے پہلے مریض بنے۔
رائس کے دماغ میں موجود رسولی وقت کے ساتھ ان کی بینائی کو متاثر کر رہی تھی اور مزید بڑھنے کی صورت میں اندھے پن کا خطرہ بھی تھا۔ سرجری کے دوران مصنوعی ذہانت نے پہلے سے موجود اسکینز کے بجائے آپریشن کے دوران براہ راست ویڈیو کو دیکھ کر سرجنز کو دماغ کے حساس حصوں، اعصاب اور خون کی نالیوں کی نشاندہی میں مدد فراہم کی۔
ماہرین کے مطابق دماغ کے اس حصے میں جہاں رسولی موجود تھی، بینائی کو کنٹرول کرنے والے اعصاب، خون کی نالیاں اور ہارمونز بنانے والا غدود بہت قریب ہوتے ہیں۔ ایسے حساس مقام پر معمولی غلطی بھی بینائی ختم ہونے، فالج یا دیگر سنگین مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت نے سرجنز کو خطرناک حصوں سے بچتے ہوئے زیادہ درستگی کے ساتھ آپریشن کرنے میں مدد دی۔
اس نظام کو یونیورسٹی کالج لندن کے ماہرین نے تیار کیا ہے، جسے مصنوعی ذہانت کی مدد سے طبی آلات میں حقیقی وقت کے تجزیے کے لیے استعمال کیا گیا۔ تحقیق کے مطابق یہ ٹیکنالوجی سینکڑوں سابقہ آپریشنز کی ویڈیوز سے سیکھ کر اہم جسمانی حصوں، جراحی آلات اور ٹشوز کی نشاندہی کرنے کے قابل بنائی گئی ہے۔
رائس ہربرٹ کے مطابق آپریشن کے بعد ان کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی اور چند دنوں میں وہ بغیر سہارے کے چلنے لگے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی تحقیق میں مریضوں کی شرکت ضروری ہے، کیونکہ اسی سے مستقبل کے علاج کے طریقے بہتر ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت سرجن کی جگہ نہیں لے رہی بلکہ پیچیدہ آپریشنز میں ایک معاون نظام کے طور پر کام کر رہی ہے، جو مستقبل میں دماغی اور دیگر حساس سرجریز کو مزید محفوظ بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔