وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں “قیدی” (عمران خان) کو 20 اور 21 اگست کی درمیانی شب مناسب حفاظتی انتظامات کے تحت ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کے مطابق ماہر امراض چشم، ماہر امراض قلب اور فزیشن سمیت مستند ڈاکٹروں کی ٹیم نے عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا۔
ایکس پر جاری کیے گئے بیان کے مطابق طبی معائنہ پمز ہسپتال میں کیا گیا، جس میں الشفا ہسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔ طبی معائنے کے بعد عمران کو صحت مند قرار دیا گیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ عمران خان کی بہن عظمیٰ خان بھی طبی معائنے اور علاج کے تمام مراحل کے دوران موجود رہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ الشفا ہسپتال کے راستے اور باہر پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے پیدا کی گئی سیکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر قیدی کو پمز ہسپتال لے جایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام طبی مراحل مکمل ہونے کے بعد انہیں 21 اگست کی صبح تقریباً 5 بجے اڈیالہ جیل واپس منتقل کر دیا گیا۔
وزیر اطلاعات کے مطابق عمران خان کو ماضی میں بھی طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور آئندہ بھی جب انہیں ضرورت پیش آئے گی، انہیں طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔