پاکستان میں تعینات ازبکستان کے سفیر علی شیر تختیوف نے کہا ہے کہ ازبکستان اور پاکستان اپنی شراکت داری کو روایتی تجارت اور سرمایہ کاری سے آگے بڑھاتے ہوئے ڈیجیٹل معیشت اور ورچوئل اثاثوں جیسے جدید شعبوں تک وسعت دے رہے ہیں۔
ازبک سفیر نے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے پاکستان کے ورچوئل اثاثہ جات کی ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ بلال بن ثاقب سے ملاقات کی۔
ان کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
بیان کے مطابق بلال بن ثاقب نے ازبکستان میں کرپٹو مائننگ کے شعبے کو منظم کرنے کے تجربے میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا۔ ان نے بالخصوص قراقلپاکستان میں قائم خصوصی مائننگ زون ’’بسقلا مائننگ ویلی‘‘ کے حوالے سے دلچسپی ظاہر کی۔
اس زون میں قابلِ تجدید توانائی اور قانون کے تحت دیگر ذرائع سے توانائی استعمال کرتے ہوئے مائننگ سرگرمیوں کے لیے خصوصی سہولیات اور شرائط فراہم کی گئی ہیں۔
ازبک سفیر نے کہا کہ بلال بن ثاقب 24 سے 26 اگست تک تاشقند میں منعقد ہونے والے پہلے ’’سلک روڈ فنانس اینڈ ٹیکنالوجی فورم‘‘ میں شرکت کریں گے۔
اس دورے کے دوران ازبکستان کے تجربات کا تفصیلی جائزہ لینے، ممکنہ مشترکہ منصوبوں پر بات چیت اور دونوں ممالک کے مالیاتی و ضابطہ کار اداروں کے درمیان براہِ راست تعاون کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ملاقات میں بلاک چین ٹیکنالوجی، ورچوئل اثاثوں، ڈیجیٹل فنانس اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تعاون کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
ازبک سفیر کے مطابق دونوں ممالک جدید ٹیکنالوجی کے ان شعبوں میں شراکت داری بڑھا رہے ہیں جو مستقبل کی معیشت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔