بنگلادیش کے ساتھ آبی معاملات موجودہ دوطرفہ طریقہ کار کے تحت حل ہونے چاہیے: بھارت

بھارت نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش کے ساتھ پانی سے متعلق تعاون اور مذاکرات موجودہ دوطرفہ طریقہ کار، خصوصاً جوائنٹ ریورز کمیشن کے ذریعے ہونے چاہییں۔

بنگلہ دیشی خبر رساں ادارے یو این بی کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے یہ بیان بنگلہ دیش کی جانب سے تیستا منصوبے میں چینی سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں دیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان 54 مشترکہ دریا ہیں، اس لیے پانی سے متعلق معاملات پر جوائنٹ ریورز کمیشن اور دیگر قائم شدہ مذاکراتی فورمز کے ذریعے بات چیت ہونی چاہیے۔

بنگلہ دیش کے وزیر آبی وسائل شاہد الدین چودھری عینی نے حال ہی میں کہا تھا کہ ڈھاکہ طویل عرصے سے زیر التوا تیستا پانی معاہدے کے باعث بھارت کے ساتھ تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتا اور نئی دہلی کو بنگلہ دیش کے مفادات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ نئی دہلی بنگلہ دیش کے ساتھ باہمی مفاد اور باہمی احترام پر مبنی مثبت، تعمیری اور مستقبل پر نظر رکھنے والے تعلقات چاہتا ہے۔

توانائی تعاون سے متعلق انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامات برقرار ہیں، جبکہ اضافی فراہمی کی کسی درخواست پر بھارت اپنی ضروریات اور دستیاب صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے غور کرے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں