“یہ فالس فلیگ آپریشن تھا”، متحدہ عرب امارات کا ایران کے ساتھ تمام تجارتی لین دین غیر معینہ مدت کے لیے روکنے کا اعلان

متحدہ عرب امارات نے ایران پر دو بیلسٹک میزائل داغنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تمام تجارتی، کاروباری اور مالی لین دین غیر معینہ مدت کے لیے روک دیا ہے۔

ایران نے الزام مسترد کرتے ہوئے واقعے کو ممکنہ ’فالس فلیگ آپریشن‘ قرار دیا ہے۔

قطری خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق اماراتی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ فیصلہ خطے کے امن و سلامتی کو متاثر کرنے والی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگایا، جن میں سے ایک ملکی سمندری حدود سے باہر جبکہ دوسرا اماراتی سمندری حدود کے اندر گرا۔ اماراتی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ میزائلوں کا ہدف بحری آمدورفت تھی اور خبردار کیا کہ ملک اور خطے میں جہاز رانی کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اماراتی الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ممکنہ طور پر ’فالس فلیگ آپریشن‘ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے علاقائی ممالک سے ایران کے خلاف غیر ثابت شدہ الزامات سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کے لیے مقرر 60 روزہ مدت بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو چکی ہے اور پانچ ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ بدستور جاری ہے۔

الجزیرہ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے مارچ کے آغاز میں ایران کے ساتھ براہ راست کارگو شپنگ معطل کر دی تھی، جبکہ جون کے آخر میں دبئی کی جبل علی بندرگاہ کے ذریعے تجارت دوبارہ شروع ہوئی تھی۔

اپنا تبصرہ لکھیں