امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ دوبارہ رابطے بڑھانے کے اشارے دیے ہیں، جبکہ جنوبی کوریا پر ایران کے خلاف امریکا کی مدد نہ کرنے کا الزام لگا کر تنقید کی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ کم جونگ اُن نے حالیہ رابطے کی کوششوں پر ’انتہائی مثبت‘ ردعمل دیا، جبکہ اس سے ایک روز قبل انہوں نے پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں محدود کرنے کی ہدایت دی تھی۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کم جونگ اُن کے ساتھ ان کے تعلقات نے جزیرہ نما کوریا کو زیادہ محفوظ بنایا ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ رواں خزاں میں کم جونگ اُن کے ساتھ ملاقات کے بھی خواہاں ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ممکنہ ملاقات سے ٹرمپ کو سیاسی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران کے خلاف امریکی جنگ بدستور جاری ہے اور یوکرین جنگ کے خاتمے سے متعلق ان کا انتخابی وعدہ بھی پورا نہیں ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا پر دباؤ ڈالنا بھی ٹرمپ کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے جنوبی کوریا کی جانب سے ایران جنگ میں تعاون نہ کرنے اور امریکا میں سرمایہ کاری کی رفتار پر عدم اطمینان ظاہر کیا ہے۔ ٹرمپ نے ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ‘اگر جنوبی کوریا ایران کے خلاف ہماری مدد نہیں کر سکتا تو پھر ہم ان کو کیوں شمالی کوریا سے بچا رہے ہیں۔’
امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقیں شمالی کوریا کے ساتھ ممکنہ جنگ کی تیاری کے لیے کی جاتی ہیں، جبکہ امریکا کے تقریباً 28 ہزار 500 فوجی جنوبی کوریا میں تعینات ہیں۔ شمالی کوریا ان مشقوں کو اپنے خلاف حملے کی تیاری قرار دیتا رہا ہے۔تاہم اب ٹرمپ نے وزیر جنگ پیٹھ ہیگسٹھ کو ہدایت کی ہے کہ ‘جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقیں محدود کی جائیں۔’
ٹرمپ اور کم جونگ اُن 2018 میں سنگاپور اور 2019 میں ہنوئی اور کورین غیر فوجی علاقے میں ملاقاتیں کر چکے ہیں، تاہم ان مذاکرات کے باوجود شمالی کوریا نے بعد کے برسوں میں اپنے میزائل اور جوہری پروگرام کو مزید وسعت دی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ پیش رفت کو ابھی امریکا اور شمالی کوریا کے تعلقات میں نئے دور کا آغاز نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ شمالی کوریا بدستور واشنگٹن پر اعتماد نہیں کرتا اور امریکا سے اپنے جوہری ریاست کے درجے کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
سابق امریکی وزیر خارجہ ہلری کلٹن نے ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘ٹرمپ کی پالیسی کینیڈا اور عمان کے مقابلے میں شمالی کوریا اور روس کے لیے زیادہ دوستانہ ہوتی جا رہی ہے۔’ انہوں نے کہا کہ یہ ناقابلِ یقین ہے۔