حکومتِ پاکستان نے سابق وزیراعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کر دی ہے۔
درخواست چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے ذریعے جمع کرائی گئی۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ عمران خان کو جیل سے باہر نجی اسپتال منتقل کرنے کا حکم اختیارِ سماعت سے متعلق قانونی حدود سے تجاوز کرتی ہے، اس لیے عدالت اپنے عبوری حکم پر نظرثانی کرے۔
حکومت کے مطابق عمران خان کو 5 اگست 2023 کو ایڈیشنل سیشن جج نے تین سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل زیر سماعت ہے۔ بعد ازاں انہوں نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 561-A کے تحت طبی بنیادوں پر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی درخواست دی، جسے اسلام آباد ہائیکورٹ نے 12 مارچ 2026 کو مسترد کر دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔
نظرثانی درخواست میں پاکستان پریزن رولز 1978 کے رول 197 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کسی قیدی کو جیل سے باہر اسپتال منتقل کرنے کے لیے باقاعدہ قانونی طریقہ کار موجود ہے اور بعض حالات میں حکومتی منظوری، آئی جی جیل خانہ جات کی کارروائی اور سیکیورٹی انتظامات ضروری ہوتے ہیں۔
وفاقی حکومت نے یہ نکتہ بھی اٹھایا ہے کہ معاملہ پہلی مرتبہ سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر ہونے کے وقت متعلقہ فریقین کو باقاعدہ نوٹس جاری نہیں کیے گئے تھے۔ درخواست میں آئین کے آرٹیکل 10-A کا حوالہ دیتے ہوئے تمام فریقین کے منصفانہ ٹرائل اور قانونی طریقہ کار کے حق پر بھی زور دیا گیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان کا طبی معائنہ پہلے بھی باقاعدگی سے ہوتا رہا ہے اور سرکاری میڈیکل بورڈ متعدد مرتبہ ان کا معائنہ اور علاج کر چکا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ کسی بیرونی اسپتال منتقلی کے فیصلے سے قبل طبی ماہرین کی حتمی رائے حاصل کی جانی چاہیے تھی تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ کیا ان کی صحت واقعی مزید خراب ہوئی ہے یا نہیں۔