‘پاکستان کے مخصوص حالات کو پیش نظر رکھنا ہوگا’، پاکستان میں گوگل کے مقامی دفتر کا افتتاح کتنا اہم ہے؟

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے پاکستان میں اپنے مقامی دفتر کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے۔

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے منگل کے روز اسلام آباد میں گوگل کے گلوبل افیئرز کے نائب صدر ولسن ایل وائٹ کی سربراہی میں وفد سے ملاقات کی۔ پاکستان میں امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر بھی ملاقات میں شریک تھیں۔

وزیراعظم شہباز شریف اور گوگل کے نمائندے نے مشترکہ طور پر گوگل کے دفتر کا افتتاح کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان تیزی سے ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے اور گوگل کے ساتھ مختلف شعبوں میں مؤثر شراکت داری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی ملک کی قسمت بدلنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، تاہم اس مقصد کے لیے ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

گوگل کے نائب صدر ولسن ایل وائٹ نے پاکستان میں مقامی دفتر کے افتتاح کو ایک بڑا سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ گوگل ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے پاکستان میں سرمایہ کاری اور تعاون کر رہا ہے۔

ان کے مطابق گوگل پاکستان کو 30 ارب ڈالر کے آئی ٹی ایکسپورٹ مرکز میں تبدیل کرنے کے وژن میں تین شعبوں کے ذریعے تعاون کر رہا ہے۔ پاکستانی افراد اور ہنرمندوں میں سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ اور انفراسٹرکچر کے ذریعے ہارڈویئر برآمدات میں اضافہ، اور مقامی کاروباروں کی معاونت اس میں شامل ہیں۔

دوسری جانب وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے بدھ کے روز گوگل کے وفد سے ملاقات میں کہا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو پاکستان کے مخصوص حالات اور سکیورٹی چیلنجز کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

وزارت داخلہ کے مطابق گوگل کے سینیئر ڈائریکٹر ڈیوڈ ویلر کی سربراہی میں وفد نے طلال چودھری سے ملاقات کی، جس میں ڈیجیٹل سکیورٹی، دہشت گردی کے خلاف سوشل میڈیا کے مؤثر استعمال، آن لائن مواد کی بروقت نگرانی اور باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

طلال چودھری نے کہا کہ پاکستان محفوظ اور پُرامن ڈیجیٹل ماحول کے لیے گوگل کے ساتھ تعاون اور رابطہ مزید بڑھانا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جغرافیائی اور سکیورٹی صورتحال دیگر ممالک سے مختلف ہے، اس لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ملک کے مخصوص حالات کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد سوشل میڈیا کو خوف پھیلانے اور دہشت گردی کے فروغ کے لیے استعمال کرتے ہیں، اس لیے پاکستان کے حالات میں سوشل میڈیا کی فعال نگرانی ضروری ہے۔

گوگل کے سینیئر ڈائریکٹر ڈیوڈ ویلر نے محفوظ ڈیجیٹل ماحول کے قیام کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے الگ گفتگو میں کہا کہ پاکستان میں گوگل کے دفتر کے قیام سے مقامی ٹیکنالوجی شعبے اور ہنرمندوں کو مزید مواقع ملیں گے۔ ان کے مطابق گزشتہ ڈھائی سال کے دوران پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں تقریباً 20 فیصد کی مسلسل شرح سے اضافہ ہوا، جبکہ رواں سال فری لانسنگ معیشت ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔

اپنا تبصرہ لکھیں